Saturday, January 7, 2017

فیلڈ ورک

کسی بھی کامیاب سیاست دان کی کامیابی اس کی زمینی محنت یعنی فلیڈ ورک کے بہ قدر ہوتی ہے۔ 
زمینی ورک کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو بدعنوان اور مفاد پرست سیاست دانوں کا فیلڈ ورک اور دوسرا جو ایمان داری کے دعوے کے ساتھ میدان میں اترنے والوں کا فیلڈ ورک! 

اول الذکر کے لئے فیلڈ ورکس بہت مختصر اور مختلف طریقے کے ہوتے ہیں۔ وہ عوام کے طبقات کے اعتبار سے فیلڈ ورک کا انتخاب کرتے ہیں۔ بالکل ان پڑھ اور غریب و بے کس عوام کے لئے ان کا فیلڈ ورک بس انتخاب سے چند ساعات قبل چند ٹکڑے پھینک جاتے ہیں۔ اور وہی عوام جو پانچ سال تک حکومت کو کوستی رہتی ہے انہی ٹکڑوں پر پل پڑتے ہیں۔ ایمان ویمان ظرف ورف سب بک جاتا ہے۔ اور جب تک یہ نشہ اترتا ہے تب تک ان شاطر رہنماؤں کی قسمت لکھی جاچکی ہوتی ہے۔ پھر عوام مینڈکوں کی طرح ٹرٹراتے پھرتے ہیں۔ اور انہیں رہنماؤں کو کوستے ہیں جن سے کبھی ضمیر و ظرف کا سودا کیا تھا۔

میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ بعض لوگ تو اس طرز حکومت پر ایمان لاچکے ہیں۔ یعنی ان کا ایمان ہے کہ ان بد عنوانوں کو کبھی بھی ہرایا نہیں جاسکتا ہے۔ اس لئے خواہ مخواہ اپنے ووٹ برباد کرنے سے بہ تر ہوگا کہ اپنا ضمیر بیچ کر وقتی طور پر ہی سہی کچھ فائدہ تو ہوجائے۔

یہ تو صرف ایک طریقہ ہے۔ ورنہ ان کے کوزے میں نہ جانے اور کتنے طریقے ہیں۔ کبھی بین المذاہب نفرت بھڑکا کر،  کبھی ایک ایک ہی مذہب کے مختلف فرقوں کے مابین غلط فہمیاں بڑھا کر۔ کبھی خوف کو عام کرکے۔ اور کبھی صاف شبیہ کے امیدوار کے خلاف سازش کرکے۔
اور ایک ہوائی محنت بھی ہے۔ جو مختلف ذرائع ابلاغ میں جھوٹی تشہیر کے ذریعے عوام کو بہکاتے ہیں۔

اور ماشاء اللہ عوام اتنی "اسمارٹ" ہے کہ جب سب کچھ ختم ہوجاتا ہے تب سمجھ پاتی ہے کہ اسے کوئی الو بنا گیا ہے۔

خیر اتنے کار آمد زمینی محنتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہوگی۔ اور ان کے تمام طریقوں کے مد مقابل مضبوط و کار آمد طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

ظاہر ہے ایک ایمان دار رہنما عوام کو پیسوں کی لالچ نہیں دے گا۔ مدمقابل کے اس پینترے کو نیست و نابود کرنے کے لئے سب سے پہلے عوام سے رابطہ بنانا ہوگا۔ جذباتی تقریروں کے ساتھ ساتھ مدمقابل کی ناکامیوں پر ایک ایک کرکے نشان لگانا ہوگا۔ عوام آپ پر کیوں بھروسہ کرے یہ بھی انہیں سمجھانا ہوگا۔ اور ان کے ضمیر کو جھنجھوڑنا ہوگا۔
اس کام کے لئے خود کی محنت کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ طور پر محنت کرنے والوں کی ایک بڑی جماعت کی ضرورت ہے۔ جو ہر علاقے سے ہوں۔ اور وہ اپنے ہی علاقے میں عوام کو ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کریں۔
نکڑ ناٹک، شاعری، اور آج کے دور میں سوشل میڈیا۔ خصوصا واٹس ایپ وغیرہ۔ 
یہ کارکنان بازاروں اور عوامی جگہوں پر جاکر لوگوں کو نت نئے طریقوں سے سمجھائیں۔

اور مدمقابل کے پیسوں کا جواب اس طرح بھی دیا جاسکتا ہے کہ انتخابی تشہیر کے شروعاتی دور سے کچھ رفاہی کام بھی کئے جائیں۔

وہ مذہبی منافرت پھیلائیں گے۔ آپ کو مذہب سے اوپر اٹھنا ہے۔ ہر مذہب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش اور مظاہرہ کرنا ہے۔

مد مقابل کی خامیوں اور بدعنوانیوں کے ثبوت بھی ساتھ رکھیں۔ اور عوام کے سامنے پیش کریں۔ اور عوام کے لئے اپنے مفاد سے دست بردار ہونا پڑے تو وہ بھی قبول کرلیں۔

کہیں کچھ پرانے رہنما جو آپ کی جماعت سے نہیں ہیں، لیکن وہ مقبول ہیں۔ اور مثبت محنت ہوئی تو ان کے جیتنے کے آثار زیادہ ہیں تو وہاں اپنے امیدوار نہ کھڑے کریں۔ بلکہ ان کی حمایت کریں۔ گرچہ وہ آپ کے حریف ہی کیوں نہ ہوں۔ 

اور بھی بہت سی باتیں ہیں۔ جن کے لئے طویل و عریض مضمون لکھنا ہوگا۔
Post a Comment