Saturday, November 5, 2016

مجھ کو اونچائی تلک یہ فیصلہ لے جائے گا


شیر شاہ آبادی انٹلیکچوئیل گروپ کے طرحی مشاعرے میں پیش کی گئی غزل

ایک دن یہ فخر تیرا مرتبہ لے جائے گا
تجھ سے تیرے دوستوں کا دائرہ لے جائے گا

اس کی محفل میں نہ جانا وہ بڑا بے ذوق ہے
 وہ تری ہر حس ترا ہر ذائقہ لے جائے گا

مت ملانا اس کی نظروں سے کبھی اپنی نظر
اک نظر میں تیرے دل کا جائزہ لے جائے گا

 تو سناتا ہے جسے اپنا سمجھ کر ہر غزل
ہر غزل کا وہ ردیف و قافیہ لے جائے گا

ٹھوکروں سے لے سبق اے شیر شہ آبادی سن
سمتِ منزل تجھ کو تیرا تجربہ لے جائے گا

دوریاں اپنوں سے تیری نا فنا کردیں تجھے
تجھ کو دلدل میں ترا یہ فاصلہ لے جائے گا

اب دیارِ غیر کو میں بھی کہوں گا خیر باد
مجھ کو اونچائی تلک یہ فیصلہ لے جائے گا

پست ہمت ہے وہ خود کیا مشورہ دے گا مجھے
وہ  مشیرِ    کار  میرا  حوصلہ    لے  جائے گا

سنت  و قرآن  ہی  بس  ہے  صراطِ  مستقیم
بابِ  جنت  تک یہی اک  راستہ  لے  جائے  گا

راستے دشوار ہیں پھر بھی ظفؔر چلتا ہی جا
منزلوں    تک  پیر   کا یہ  آبلہ   لے جائے   گا
Post a Comment