Saturday, November 5, 2016

کچھ آپ بھی تو سیکھئے غیروں کو دیکھ کر



پڑھتے ہیں وہ دلوں کو بھی نظروں کو دیکھ کر
سیرت بھی جان لیتے ہیں چہروں کو دیکھ کر

مے کش کو مے کدے کو تو دیکھا کئے مگر
بہکے ہیں ہم تو آپ کے نخروں کو دیکھ کر

کس منہ سے آپ ہم کو نصیحت سنائیں گے
بگڑی ہے نسل آپ کے شہروں کو دیکھ کر

سرحد اجڑ رہی ہے خبر ہے کہ جنگ ہے
تڑپا ہوں میں بھی آج کی خبروں کو دیکھ کر

میں بھی یہیں پہ آؤں گا اک دن یقین ہے
یوں کیوں اداس آج ہوں قبروں کو دیکھ کر

دولت سے علم کے ہی ہوئے ہیں وہ سرخ رو
کچھ آپ بھی تو سیکھئے غیروں کو دیکھ کر

یہ شاعری نہیں ہے سوانح ظفؔر کی ہے
 احوال میرے جانئے شعروں کو دیکھ کر

Post a Comment