Saturday, September 3, 2016

وفا میں جفا بھی تو درکار ہے

سید عبدالستار مفتی میموریل فیس بک گروپ کے 54 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔

مصرعِ طرح: "یہاں ریشۂ گل بھی تلوار ہے"



کہیں پر تو پھولوں کی بوچھار ہے
 کہیں یہ زباں مثلِ تلوار ہے 

 یہ آنکھوں کی سرگوشیاں اف صنم
  یہ شاید محبت کا اظہار ہے  

جفاؤں پہ اپنی وہ گویا ہوئے
 وفا میں جفا بھی تو درکار ہے

مری دھڑکنوں سے دھڑکتا تھا جو
ہے افسوس اب مجھ سے بے زار ہے

بھٹکتا تھا جو در بہ در کل تلک
سیاست میں آکر وہ زردار ہے

بناوٹ کے چہروں سے اب ہوشیار
یہ ملت فروشوں کا بازار ہے

 کہ چہرے کی رونق کی بنیاد پر
کسی کو سمجھنا تو دشوار ہے

  جو سب کچھ وطن پر نچھاور کرے
 اسی کو تو کہتا ہے غدار ہے؟ 

ظفر کو نہ سمجھا ئیو ناصحا
خمارِ محبت سے سرشار ہے



;

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی
Post a Comment