Friday, September 2, 2016

ان سے آیا نہ گیا ہم سے بلایا نہ گیا

فیس بک گروپ "قوسِ قزح" میں 30 اگست 2016 کو عالمی سطح پر ایک فی البدیہہ طرحی مشاعرہ منعقد ہوا۔ 
مشاعرہ میں میر تقی میر کی مشہور غزل کا مصرع "سر بھی تسلیمِ محبت میں ہلایا نہ گیا" طرح مشاعرہ قرار پایا۔
اسی مشاعرے میں لکھی گئی ایک مختصر برجستہ غزل!




دل کے احوال کو تم سے ہی چھپایا نہ گیا
لاکھ  چاہا   تھا  مگر تم کو  ستایا نہ گیا

فاصلے ایسے  بڑھے ان سے غلط فہمی میں
ان سے آیا نہ گیا ہم سے بلایا نہ گیا

خوں جلا کر کے بہایا تھا  پسینہ ہم نے
وہ پسینہ تو کبھی خون  کہایا نہ گیا

چند ٹکڑوں پہ اصولوں کو بھی قربان کریں؟ 
یہ کسی درس میں ہم کو تو  سکھایا نہ گیا

تری ہر یاد مٹانے کی بہت کوشش کی
چاہ کرکے بھی تجھے ہم سے بھلایا نہ گیا

روپ رہبر کا ہے پر اصل میں وہ  رہزن ہیں
قوم لٹ جائے گی گر پردہ ہٹایا نہ گیا

خود کو کس منہ سے ظفؔر  خادمِ اردو کہہ دوں
مجھ سے اک  شعر سلیقے کا سنایا نہ گیا

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی
Post a Comment