Monday, August 29, 2016

سنا ہے آپ کے چہرے بہت ہیں

مورخہ 27 اگست کو "موجِ سخن" نامی فیس بک گروپ کے 149 ویں آن لائن عالمی طرحی فی البدیہ مشاعرے میں شرکت کا موقع ملا۔ 

میں نے بھی اس محفل میں چند برجستہ اشعار کہنے کی کوشش کی تھی۔ اسی کی یک جا شکل میں پہلی غزل حاضر ہے۔

 برجستہ شعر گوئی کا یہ پہلا تجربہ ہے۔ اہل فن سے خامیوں کی نشان دہی کی امید ہے۔


محبت آپ سے کرتے بہت ہیں
مگر اظہار سے ڈرتے بہت ہیں

پتہ ہے کیوں ہمی کٹتے بہت ہیں؟ 
ہمارے باہمی جھگڑے بہت ہیں

منافق سے ہمیں ہے سخت نفرت
سنا ہے آپ کے چہرے بہت ہیں

انہیں کیسے میں اپنا یار کہہ دوں
جو میرے درد پہ ہنستے بہت ہیں

غزل کی شکل میں ہم زخم لکھیں
مریضِ عشق ہیں روئے بہت ہیں

فقط اک تو نہیں ہے اس جہاں میں
کہ ہم پہ اور بھی مرتے بہت ہیں

بہانے لاکھ ہیں گر دل نہ چاہے
وگرنہ وصل کے رستے بہت ہیں

مرے مولی خطائیں بخش دینا
مرے اعمال بھی گندے بہت ہیں

ظفؔر ہر ملک کی حالت یہی ہے
ذرا سی بات پہ دنگے بہت ہیں



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی
Post a Comment