Thursday, August 18, 2016

ظفؔر اندر سے گھائل ہے وہ بالکل کٹ چکا ہے اب



اشارے آنکھ کے شامل نہ  ہوں پھر  گفتگو کیا ہے
دعاؤں میں نہ ہو تیری طلب تو جستجو کیا ہے؟

سراپا ہی ترا ہے عنبریں یا میں نشے میں ہوں
گزرگاہوں پہ تیری اے صنم یہ مشک بو کیا ہے؟

اصولوں پر کسی کو فوقیت میں دے نہیں سکتا
ضرورت پڑنے پر ہے جان بھی حاضر لہو کیا ہے

خریدے گا مجھے،  اور تو؟ خیالِ خام ہے تیرا
بہت آئے گئے اس کام کو دل بر سو تو کیا ہے

ترا اقرار سچ ہے یا کہ یہ بھی وہم ہے میرا
اگر وہ تو نہیں ہے پھر وہ تجھ سا ہو بہو کیا ہے

مجھے اب تو پلادے ساقیا نظروں کے پیمانے
نشہ نظروں سے چڑھ جائے تو یہ جام و سبو کیا ہے

ہمیں جو بھی گزند پہنچا وہ اپنوں سے ہی پہنچا ہے
تو پھر سمجھائے کوئی مجھ کو مفہومِ عدو کیا ہے

ہوا قاتل ہی جب منصف امیدِ منصفی کیسی
مجھے چڑھنا ہی ہوگا دار پر اب آرزو کیا ہے

ظفؔر  اندر سے گھائل ہے وہ بالکل کٹ چکا ہے اب
اسے جو مندمل کردے وہ مرہم وہ  رفو کیا ہے؟



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی
Post a Comment