Saturday, August 27, 2016

حسرتوں کی میں اک کتاب لکھوں

مورخہ: 26 اگست 2016

حسرتوں کی میں اک کتاب لکھوں
چا ہتو ں کا حسین با ب لکھو ں

ترے چہرے کو میں گلاب لکھوں
آ صنم تجھ کو ما ہتا ب لکھوں

زیرِ دند ا ن حرکتِ لب کو
لب لکھوں یا کہ پھر شباب لکھوں

پھر ترے لب سے اک سوال اٹھا
 اب قریب آ کہ میں جواب لکھوں

ہے کشش یا ہے نشہ آنکھوں میں
ان کو میں کاسۂ شراب لکھوں

اپنی حالت جو میں لکھوں ہم دم
غم و اندوہ اور عذاب لکھوں

و ہ محبت کو جر م کہتے ہیں
میں ا سے با عثِ ثواب لکھو ں

ایک دن ہم بھی مل ہی جائیں گے
اس کو حسرت لکھوں یا خواب لکھوں

یوں تو کہنے کو اب ظفؔر خوش ہے
اس خوشی کو بھی میں سراب لکھوں



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی
Post a Comment