Saturday, July 2, 2016

میں ہوں شیر شہ بادی



نسب ہے شیر شہ سوری سے میں ہوں شیر شہ بادی
مجھے تو یہ خوشی بے حد ہے میں ہوں شیر شہ بادی

بہت اندر تلک دلدل میں میری قوم جا پہنچی
تو اب مجھ کو ہی کچھ کرنا ہے میں ہوں شیر شہ بادی


ہر اک سو اب اندھیرا گرچہ میرا راستہ روکے
اندھیروں سے مجھے ڈر کیا ہے میں ہوں شیر شہ بادی


ہمیں تھے قوم کے والی ہمیں معمار کہلائے
مرے اجداد کا فدیہ ہے میں ہوں شیر شہ بادی

نرالے طور ہیں اس قوم کے انداز لاثانی
نرالی قوم کی ہر شے ہے میں ہوں شیر شہ بادی

انہیں بس روشنی کی اک رمق جھنجھوڑ سکتی ہے
مری یہ قوم غفلت میں ہے میں ہوں شیر شہ بادی

حلاوت اپنی بولی کی وہی بس جانتا ہوگا
کوئی غربت میں جو بولے ہے میں ہوں شیر شہ بادی

جو اپنی قوم سے بدظن ہیں وہ خود سے کبھی پوچھیں
کہ ان کا دل یہی کہتا ہے میں ہوں شیر شہ بادی

ظفؔر اٹھو کمر کس لو کہیں نہ دیر ہوجائے
مجھے تاریخ اب لکھنی ہے میں ہوں شیر شہ بادی
۞۞۞



۞۞۞




LIKE& SHARE it on Facebook


۞۞۞
Follow me on Facebook
۞۞۞

Post a Comment