Tuesday, July 12, 2016

ہے یہ ہندوستاں میرا



مرے  اجداد کا  فدیہ  ہے یہ ہندوستاں میرا
مجھی سے لے رہا جزیہ ہے یہ ہندوستاں میرا

ذرا تاریخ پڑھنے کی کبھی زحمت بھی کر لینا
مرے  ہی  خون کا  ثمرہ ہے یہ ہندوستاں میرا

لہو دوں گا میں اپنا جب ضرورت آن پہنچے گی
لُٹا دوں جان بھی، جذبہ  ہے یہ ہندوستاں میرا

ذرا  الزام   لگ  جائے   گر فتا ر ی   یقینی   ہے
مگر  مجرم  ہوئے  شستہ، ہے  یہ  ہندوستاں میرا

خلل کوئی بھی مت ڈالے مرے ملکی مسائل میں
کہ اٹھے پھر کوئی فتنہ ہے یہ ہندوستاں میرا

یہ اک سونے کی چڑیا تھی یہ محور تھا زمانے کا
ہوئے  حالات  اب خستہ،  ہے  یہ ہندوستاں میرا

مرے  دامن  پہ ہلکا داغ  لگ  جائے  تو  آفت  ہے
 ترے ظلموں سے شرمندہ ہے یہ ہندوستاں میرا

میسر ہوں گے اچھے دن بڑی امید تھی سب کو
مگر  یہ تو  ہوا جملہ،  ہے یہ  ہندوستاں  میرا

جو قاتل تھا ہزاروں کا ظفؔر اب وہ  مسیحا ہے
تماشہ یہ  ہوا طرفہ،  ہے یہ ہندوستاں  میرا



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی
Post a Comment