Saturday, June 25, 2016

ایک تھا کوّا!

کسی زمانے میں ایک بہت چالاک کوا ہوا کرتا تھا۔ وہ خود کو اپنے وقت کا افلاطون سمجھتا تھا۔
Image Source: Google


ایک دفعہ اسے زیادہ چالاکی سوجھی اور اس نے سوچا کہ چالاکی کے ساتھ اگر خوب صورتی بھی ہو تو کیا کہنے! بس اسی فراق میں وہ ہزار جتن کرتا ہوا ہنس کی طرح خوب صورت بننے کے خواب دیکھنے لگا۔ اور ایک دن کسی ترکیب سے وہ ہنس کی طرح بن گیا! آپ کو تو شاید پتہ ہی ہے کہ پھر اس کی کیا درگت بنی۔ تھا تو آخر کوا، ہنسوں نے اس کی چال سے پکڑ لیا اور خوب خاطر تواضع ہوئی۔ اب جب کسی طرح وہاں سے جان بچاکر بھاگا اور کووں کے بیچ آیا تو کوے اسے نہ پہچان سکے۔ اور انہیں لگا کہ یہ مکار کسی برائی کو انجام دینے آیا ہے۔ بس اب کیا! اس کے اپنوں نے بھی اسے خوب دھویا ۔ اور اسی دھلائی میں اس کا رنگ کھل گیا۔ اسی دن سے یہ مثل مشہور ہوگئی: کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھول گیا۔
یہ مثل خواہ مخواہ جانوروں پر بنائی گئی ہے۔ بے چارے کوے بنا جرم کے بدنام ہیں! یہ مثل تو انسانی کرتوتوں کو نظر میں رکھ کر معرض وجود میں آئی۔ آج بھی ہر سماج میں ایسے کوے موجود ہیں جو خود کو حقیقت سے زیادہ ہی چالاک سمجھتے ہیں! پھر انہیں اپنا سماج، اپنی تہذیب اور حتی کہ اپنی زبان تک معیوب لگنے لگتی ہے۔ یہ معصوم کوے اتنے بھولے ہوتے ہیں کہ انہیں گرد وپیش کی کوئی خبر ہی نہیں ہوتی ہے۔ اسی لئے کہا جاتا کہ آسمان پر اڑنا ضرور چاہئے لیکن زمین سے رشتہ بھی ضروری ہے۔ تا کہ اگر آسمان کی بلندیاں راس نہ آئے تو کم از کم کھجور میں تو نہ اٹکنا پڑے!

تاریخ شاہد ہے اپنی قوم اور تہذیب سے بغاوت کرکے کسی کا بھی بھلا نہیں ہوا ہے۔



۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook


۞۞۞
Follow me on Facebook
۞۞۞

Post a Comment