Thursday, April 28, 2016

ضرورت امام

کچھ دنوں سے ایک تحریر واٹس ایپ اور فیس بک پر گردش میں ہے۔ تحریر کو دل چسپ بنانے کی کوشش میں صاحب تحریر نے کئی بھیانک غلطیاں کی ہیں۔

میں پہلے اس تحریر کو من وعن نقل کررہا ہوں۔ اس کے بعد اس پر کچھ تعلیق و تبصرے کروں گا۔

« ضرورت امام ومدرس

ہمارے علاقے کی ایک بڑی مسجد کے خطیب صاحب نے اپنی جمعہ کی تقریر میں بتایا کچھ لوگ ان کے پاس آئے کہ ہم نے مسجد بنائی ہے اور امامت کیلئے ایسا بندہ تلاش کر رہے ہیں جو ہزار پندرہ سو روپے پر راضی ہو جائے۔ نیک پاک ہو، کسی قسم کی برائی میں مبتلا نہ ہو فارغ وقت میں کیونکہ ہمارے بچے بچیوں کو قرآن بھی پڑھائے گا اس لیئے اخلاق اور کردار کا بھی اعلیٰ ہو۔ ٹی وی نہ دیکھتا ہو، سگریٹ نہ پیتا ہو۔ اس کے اپنے گھر والے پردہ دار ہوں اور دینی تعلیم کے علاوہ کوئی اور کام نا کرتے ہوں۔ شیخ صاحب کہتے ہیں جب ان لوگوں نے بولنا بند کیا تو میں نے کہا میرے ذہن میں ایک آدمی ہے تو سہی۔ اچھا اخلاق ہے، با کردار ہے، شاید آپ سے یہ تنخواہ بھی نا لے۔ ماضی میں بہت سے اہم کام سر انجام دیتا رہا ہے مگر آج کل فارغ ہے اور ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہے۔ کہو تو اس کا نام بتا دوں خود جا کر مل لو۔ بندے بہت خوش ہوئے کہ جی لگتا ہے ہم ایسا ہی کوئی آدمی تلاش کر رہے تھے آپ ہمیں اس کا نام پتہ بتائیں ہم ابھی جا کر اس سے ملتے ہیں۔ شیخ صاحب نے کہا اس فارغ آدمی کا نام جبرائیل (علیہ السلام) ہے جو آپ لوگوں کی شرطوں پر پورا اترتا ہے جا کر مل لیجیئے۔ »

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں ائمہ اور مؤذنین کے ساتھ حد درجہ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ اور اگر موازنہ کیا جائے تو ان حضرات کو زرخرید غلام کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اکثر مساجد کا تو یہ حال ہے کہ امام مسجد کے متولی کی مرضی کے خلاف خطبے میں کچھ بھی نہیں بول سکتا ہے۔ اور ان گنت ذمہ دادیوں کے باوجود ماہانہ معاوضہ صرف اتنا کہ بہ مشکل زندگی گزر سکے۔ یہ سراسر ظلم ہے۔ اور اس کے خلاف زبان وقلم سے احتجاج ضروری ہے۔ لیکن اس احتجاج میں بھی یہ خیال رہے کہ کچھ غلط نہ ہوجائے۔

اوپر کے اقتباس میں کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ صاحب تحریر نے بڑے دل چسپ اور طنزیہ انداز میں معاشرے کی اس برائی پر ضرب لگانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن وہ بھی پھسل گئے۔ 
اس تحریر میں روح الأمین، سید الملائکة حضرت جبرئیل علیہ السلام کے بارے کچھ نہایت ہی قابل اعتراض باتیں کہی گئی ہیں۔

❶ جبرئیل علیہ السلام کو آدمی کہا گیا ہے جو کہ سراسر گمراہی ہے۔ اور ایمان کے اصولوں سے انحراف ہے۔ کیوں فرشتوں پر ایمان لانا بھی ایمان کا حصہ ہے۔ اور اس کے تحت ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ فرشتے نور سے ہیں۔ 

❷ شاید تنخواہ نہ لے: یہ بالکل بے تکی سی بات ہے۔ یہ ان کی کارکردگی پر ایک قسم کا شک ہے اور ان کی تحقیر بھی ہے۔

❸ فارغ ہے: فرشتے کسی پل بھی فارغ نہیں ہیں۔ اور وہ ہمارے تابع نہیں، بلکہ اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ لہذا یہ سوچنا ہی غلط ہے! 

❹ ریٹائرڈ ہے: استغفر اللہ، اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے پہلے ہمیں سوچنا چاہئے۔ ریٹائرڈ کا مطلب آپ سبھی جانتے ہیں۔ جب کوئی شخص کسی کام کے لائق نہیں رہتا یا کارکردگی میں کمی آجاتی ہے تو اسے ریٹائر کر دیتے ہیں۔ اور فرشتوں کے متعلق اس قسم کا جملہ واقعی قابل اعتراض ہے! 


بادی النظر میں مجھے بھی یہ بہت اچھا لگا تھا۔ اور عجلت میں ایک علمی گروپ میں اسے نشر بھی کیا تھا۔ میں اپنی اس لاپرواہی پر معذرت خواہ ہوں۔ اور اللہ سے توبہ کرتا ہوں۔ اللہ میری اس خطا کو معاف فرمائے۔ آمین۔



۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook


۞۞۞
Follow me on Facebook
۞۞۞

Post a Comment