Saturday, March 19, 2016

اف یہ فربہی!

وزن بہت بڑھ گیا ہے! ایک زمانہ تھا جب اسی وزن کو بڑھانے کے فراق میں نہ جانے کون کون سے طریقے اپنائے۔ قسم ہا قسم کے معجون، اور گھٹیاں انڈیل لیں! لیکن وہی نحیف اور ہوا سے بات کرتا ہوا وجود! ہوا کا مزاج معمولی سا بھی خراب ہوا تو پھر بغیر کسی ایندھن کے میں دوڑ پڑتا تھا۔ لیکن کچھ سالوں قبل ایک ایسا انقلاب آیا اور وزن نے ترقی دکھانی شروع کردی! ابتداء میں تو اچھا لگ رہا تھا،لیکن یہ کیا؟! ترقی کا یہ سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے! میرے خیال سے دنیا کی یہ اکلوتی ترقی ہوگی جس سے انسان کو پناہ مانگنی چاہئے! رب کا قول جھوٹ نہیں ہوسکتا ہے! ہم انسانوں میں سب سے نمایاں خصوصیت ہماری ناشکری ہے! اور ہم بھی چوں کہ انسان ہیں تو ناشکری کربیٹھے! اب ہمیں موٹاپے سے شکایت ہے۔ جب کہ اسی موٹاپے کے لئے نہ جانے کتنی دعائیں مانگا کرتا تھا۔ خیر اب تو یہی دعا کرتا ہوں کہ جیسا پہلے تھا ویسا نہیں تو کم از کم کچھ تو معتدل ہوجاؤں!

ویسے لوگوں میں جو یہ مشہور ہے نا کہ فکرمندی سے آدمی نحیف اور لاغر ہوجاتا ہے! یہ درست نہیں ہے! میں بہ ذات خود ایک جیتا جاگتا نمونہ ہوں! فکرمندی جس قدر بڑھ رہی ہے وزن اور موٹاپا بھی بڑھ رہا ہے! 
اب اس موٹاپے کو کم کرنے کی فکر بھی بڑھتی جارہی ہے! وزن بڑھنے کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو ایک کوئنٹل تک جلد ہی پہونچ جاؤں گا! 

اررے واہ! مطلب ایک ریکارڈ میرے نام بھی! 
بھئی 100 کلو مطلب وزن کی سینچری!! اور سینچری مطلب ریکارڈ!! لوگ اپنی بے غیرتیوں پر ریکارڈ لیتے ہیں یہ تو بس وزن کی بات ہے! 

اینٹی مولوی حضرات غلط فہمی میں نہ پڑیں! میری خوراک بالکل معتدل ہے! آپ لوگ خود اپنے پیٹ کے جہنم میں قسم ہا قسم کے ایندھن ٹھونستے رہتے ہیں، پر مولوی بے چارہ اگر قسمت سے کبھی دوچار لقمے زیادہ کھا لیتا ہے تو آپ کو بدہضمی ہونے لگتی ہے! اور یہ دنیا کی واحد بد ہضمی ہے جو پیٹ کی بہ جائے دماغ میں ہوتی ہے! بھئی اپنے دماغ اور اپنی سوچ کا علاج کرائیں پھر آپ کو اس معاشرے میں بے شمار ایسے افراد ملیں گے جو مولوی نہیں ہیں اس کے باوجود دسترخوان ان سے خوف زدہ رہتا ہے!
★★★




۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook



۞۞۞
Follow me on Facebook
۞۞۞

Post a Comment