Saturday, September 5, 2015

اساتذہ: میرےعلمی واخلاقی اقدار کے معمار

0 تبصرے

یہ الگ مسئلہ ہے کہ یوم اساتذہ یا اس قسم کے دیگر خصوصی ایام منانے کا شرعی حکم کیا ہے؟ لیکن آج جب فیس بک پر ہر طرف اساتذہ کا تذکرہ دیکھ اور سن رہاہوں تو میرے چند اساتذہ مجھے بڑی شدت سے یاد آرہے ہیں۔
کوئی بھی استاذ برا نہیں ہوتا، ہاں کچھ تلخ یادیں وقتی یادائمی طور پر ان کو برا بناتی ہیں۔ خیر یہاں میں اپنے چند ان اساتذہ کا تذکرہ کروں گا جنہوں نے واقعی مجھے بہت کچھ دیا۔ اور جن سے میں نے وہ کچھ سیکھا جو میری زندگی کا بہترین سرمایہ ہیں۔


1.   والدِ محترم فضیلۃ الشیخ علاء الدین ندوی حفظہ اللہ:
میرے سب سے بڑے اور میرے نزدیک ہر فن مولا استاذ۔ میرے تئیں ان کی تربیت کا انداز بہت ہی عمدہ اور ناقابل فراموش ہے۔ بچپن سے اخلاقی اقدار اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اس طرح میرے ذہن میں پیوست کردیا کہ وہ میرے لئے فطرت ثانیہ بن گئیں۔
قرأت، تجوید، اردو ادب، عربی ادب، فن خطابت، فن کتابت، مضمون نگاری، نظم خوانی، فن شعر، نحو و صرف اور حدیث و تفسیر اور پتہ نہیں کیا کیا!!! ان سب کی بنیادی تعلیم والد محترم سے ہی پایا ہوں۔ یہاں تک  کہ ریاضت یعنی کھیل کود میں دل چسپی بھی والد محترم کی بنا پر ہے۔  بچپن سے انہیں والی بال کھیلتے دیکھا، اور جب تھوڑا بڑا ہوا تو انہی کے ساتھ کھیلنے جانے لگا۔ اخلاقی اقدار پر مشتمل  عبرت آموز حقیقی قصے سنانا والد صاحب کا معمول تھا۔ وہ قصے بیان کرکے ہمیں اس کی اخلاقیات اور اس کے فوائد پر تنبیہ کرتے ۔ بسا اوقات وہ کچھ لطائف بھی سنادیا کرتے تھے۔  یوں لاشعوری میں ہی بہت کچھ سیکھ گیا۔والد محترم سے بہت ساری کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ اور الحمد للہ سبھی کتابیں اہم تھیں۔
ا۔ ہدایۃ النحو          ب۔ قطر الندی     ج۔ دروس البلاغۃ   د۔ آزاد انشاء         ہ۔ مختارات   و۔ صحیح بخاری ج1
ان کتابوں میں  مختارات اور صحیح بخاری کے دروس یادگار اور مشعل راہ ثابت ہوئے۔  صحیح بخاری پڑھ کر حدیث کی چاشنی اور حلاوت کا اندازہ ہوا۔
اللہ والد محترم کو صحت عافیت کے ساتھ سلامت رکھے۔اور مجھے  اور ان کے دیگر تلامذہ کو ان کے لئے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین
2.  استاذ الاساتذہ ، لائق صد احترام ڈاکٹر افضال علی علیگ حفظہ اللہ (جلگاؤں، مہاراشٹر)
یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے مجھے اور اپنے دیگر قدر دانوں کو ایسے افکار و اقدار عنایت کئے ہیں کہ تادم حیات کسی بھی قیمت پر ان کے اس احسان کا بدلہ نہیں چکایا جاسکتا ہے۔ میں انہیں بھی ہرفن مولا ہی مانتا ہوں۔ کیوں کہ انہوں نے ہندی ادب میں پی ایچ ڈی کیا تھا لیکن انہیں انگریزی،  اردو اور ریاضیات وغیرہ میں اس قدر عبور حاصل تھا کہ ایک انجان شخص یہی تصور کرے گا کہ یہ استاذ ہندی میں نہیں بلکہ اردو انگریزی اور ریاضیات میں متخصص ہے۔ اپنی زندگی میں ان کے جیسا خود دار میں نے اب تک نہیں دیکھا۔ اور امید بھی بہت کم ہی ہے کہ ایسا خود دار نظر آجائے۔ انہیں مولویوں سے ہمیشہ یہ شکایت رہتی تھی کہ یہ طلباء سے خدمت کرواتے ہیں۔ وہ اپنا ہرکام خود ہی انجام دیتے تھے۔ حال آں کہ وہ کافی عمر دراز تھے۔ ان کے عمر کے بارے میں نہیں پتہ لیکن ایک دفعہ ذکر کررہے تھے کہ غالبا 1938 ء میں جس سال علامہ اقبال کا انتقال ہوا اس سال انہیں ماسٹر ڈگری ملی تھی۔ وہ اقبال اور مجروح جیسے ماہر فن اساتذہ کو روبہ رو سننے والے استاذ تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ ان کی شعر فہمی اور اردو میں مہارت بے مثال تھی۔ صرف  ایک ہی سال ان سے اردو پڑھنے کا موقع ملا، لیکن اسی ایک سال میں اردو کے ایسے رموز سے آگہی ہوئی  جن سے ہم ناآشنا تھے۔   ان سے ہندی  اور اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی کافی کچھ  سیکھنے کا موقع ملا۔ سب سے بڑی اور اہم چیز یہ کہ انہوں نے ہمیں زندگی گذارنے کا ہنر سکھایا۔ اپنے بہت سے کامیاب تجربات کی روشنی میں ہمیں کامیاب زندگی کے نایاب اصول سکھائے۔ دنیا میں یوں تو کوئی مکمل نہیں ہوا، لیکن اس شخصیت میں کچھ خاص ہی باتیں تھی جو انہیں اوروں سے بالکل نمایاں اور الگ بناتی تھیں۔ اس ضعیف العمری میں انہیں عربی سیکھنے کا شوق ہوا، تو ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے کہ وہ ایک چھوٹے بچے کی طرح اپنے ماحول سے بے پرواہ ہوکر کتابوں میں منہمک رہتے تھے۔
طلباء کے لئے ان کے خلوص کو دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ ان کے اپنے ہی بچے ہیں۔ جن طلباء میں کچھ سیکھنے کا جذبہ ہوتا  ،  اپنے بچوں کی طرح ان طلباء کی فکری  اور اخلاقی تربیت کرتے تھے۔ اور جن میں اس جذبے کا فقدان ہوتا تھا ان کو یہ ہنسی مذاق میں ٹال دیتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے میں لکھتا جاؤں تو پتہ نہیں کتنے صفحات سیاہ ہوجائیں۔ بس ان کے لئے رب کریم سے خلوص دل سے دعا ہے کہ مولی تو ان پر کرم فرما، اور ان کی ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو قبول فرما، اور ہمیں ان کے لئے ذخیرۂ آخرت بنا۔ آمین۔
میرے اساتذہ کے اساتذہ کے استاذ ہیں۔ اس لئے میں انہیں استاذ الاساتذہ  کہتا ہوں۔

3.   استاذ الأساتذہ    فضیلۃ الدکتور فضل الرحمن المدنی حفظہ اللہ (اترپردیش)
ہند کے فقید المثال استاذ اور فقہ وفتاوی کے افق کا ایک معتبر ستارہ  استاذ محترم ہیں۔ گرچہ ہماری بدقسمتی سے ہمیں  صرف فضیلت ثانی میں ہی ان سے استفادہ کا موقع ملا۔ گوکہ یہ عرصہ بہت ہی کم ہے، لیکن استاذ محترم نے اسی قلیل عرصے میں علم کے وہ نایاب گہر ہمیں تحفے میں عطا کئے کہ جن کی بنا پر ہم رشک کرسکیں۔  فقہ کے باب میں بہت سے اصول جو اب تک سمجھ نہ سکے تھے یہاں آکر وہ واضح ہوگئے۔ خوش مزاج ، اور بہت ہی متواضع استاذوں میں سے ایک ہیں۔  اپنے اساتذہ کی فہرست میں شیخ کا نام ہی ایک سند کی حیثیت ہے۔ اور مجھے اس پر خوشی بھی ہے۔ اللہ استاذ محترم کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور اس امت کو تادیر ان سے مستفیض فرمائے۔ آمین۔

4.   فضیلۃ الأستاذ شیخ ابورضوان المحمدی السلفی حفظہ اللہ (مالیگاؤں، مہاراشٹر)
عقائد اور اصول  عقیدہ میں سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔  ان کی تدریس میں کمال کا اثر ہے۔ جو کہتے ہیں دل میں اترتا جاتا ہے۔ بسا اوقات دل کرتا تھا کہ گھنٹی ابھی ختم نہ ہو اور ہم یوں ہی سنتے رہیں۔  عقیدہ کے باب میں جو کچھ سیکھا ، انہی سے سیکھا۔  الحمد للہ ایک بہترین استاذ ہونے کے ساتھ ہی وہ ایک بہترین خطیب اور مناظر بھی ہیں۔ اسی لئے عقیدہ میں جو کچھ کہتے تھے گویا وہ پتھر کے نقوش کی طرح دل میں پیوست ہوجاتے تھے۔ بہت ہی بارعب اور پروقار استاذ  ہیں۔ ہمارے دور تک تو کبھی نہیں سنا گیا کہ انہوں نے کسی کو سزا دی ہو، لیکن کیا مجال کہ ان کے سامنے کوئی گستاخی کرے۔  میرے پسندیدہ اساتذہ میں سے ایک ہیں۔ اللہ شیخ محترم کی حفاظت فرمائے، اور انہیں سکون وعافیت کی زندگی بخشے۔ آمین

5.   فضیلۃ الأستاذ شیخ شہاب الاسلام المحمدی حفظہ اللہ (مالدہ، مغربی بنگال)
شیخ شہاب ہمارے جامعہ کی تاریخ میں اکلوتے استاذ  تھے جو صرف اسی جامعہ سے پڑھ کر فارغ ہوئے تھے اور اسی جامعہ کے مقبول ترین اور کامیاب ترین اساتذہ کی فہرست میں  شامل تھے۔ چوں کہ اسی ادارے کے فارغ تھے اس لئے طلباء سے ان کا تعامل دوستانہ تھا۔ کچھ حد تک شیخ ابورضوان محمدی کا اسلوب اپناتے تھے۔ بلکہ ان کا اسلوب تو سب سے اچھوتا تھا۔  ان کے اسلوب کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ  کسی عبارت یا مسئلہ کو سمجھاتے ہوئے طلباء کے چہروں کو پڑھتے رہتے تھے۔اور انہیں فورا احساس ہوجاتا تھا کہ اس مسئلہ کو طلباء اچھی طرح نہیں  سمجھ سکے ہیں ، پھر وہ اسی مسئلے کو الگ الگ اسلوب سے سمجھانے کی کوشش کرتے۔
یہ ہرفن مولا اساتذہ میں سے ایک ہیں۔ جنہوں نے ہمیں نحو، صرف اور ادب عربی کے علاوہ حدیث ، تفسیر اور فقہ پڑھایا۔ اور الحمدللہ انہوں نے تمام کتابوں کو اس کا پورا پورا حق دیا۔   اللہ استاذ محترم کے علم میں برکت عطا فرمائے۔ آمین

6.   فضیلۃ الشیخ جنید احمد المحمدی، المدنی حفظہ اللہ (فیض آباد، اترپردیش)
بارعب اساتذہ میں شمار ہوتا تھا۔  ہمارے لئے ان کی طرف سے سب سے قیمتی تحفہ صحیح مسلم کا درس ہے۔ اس درس سے پہلے تک ہم صرف انہیں ان کے رعب وجلال سے جانتے تھے، اور اکثر اسی وجہ سے ان کی عزت بھی کرتے تھے۔ لیکن جب سے مسلم شریف پڑھنے کا شرف ہوا تو ان کی حیثیت کا اندازہ ہوا۔ انہوں نے گویا دل و جان لگاکر اس کتاب کو ہمیں پڑھایا۔ الحمد للہ استاذ محترم کی اس محنت کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔  بھئی میں تو ان کے اسی درس سے ان کا مداح ہوں۔ اللہ شیخ محترم کی حفاظت فرمائے۔ اور ان کی اس خدمت کا بہترین صلہ عطا فرمائے۔ آمین۔

7.   فضیلۃ الشیخ  شمیم احمد المحمدی المدنی حفظہ اللہ (اترپردیش)
کچھ اساتذہ کچھ خاص کتابوں کے توسط سے یاد کئے جاتے ہیں۔ حال آں کہ شیخ محترم  کے اسلوب سے ہم ہمیشہ نالاں رہتے تھے۔ کیوں کہ ان کا اسلوب نہایت ہی سیدھا سادھا تھا۔ اور خود بھی بہت ہی بھولے بھالے اور  کم گو انسان تھے۔ جس سال انہوں نے ہمیں جامع ترمذی پڑھایا اسی سال ہمیں ان کی حیثیت اور صلاحیت کا اندازہ ہوا۔ اس سے پہلے ان کی کتابوں میں طلباء بہت کاہلی کرتے تھے، لیکن جامع ترمذی میں تو انہوں نے کمال کردیا۔ اس کے علاوہ  اصول حدیث کی کتاب" الحدیث والمحدثون" بھی انہی سے پڑھنے کا موقع ملا۔ اور یہاں ان کا ایک الگ ہی رویہ اور رنگ نظر آیا۔ منکرین حدیث کا رد کرتے تو ہمیں یقین ہی نہیں ہوپاتا تھا کہ یہ وہی شخص ہیں جو بہت کم گو اور خاموش رہنے والے  انسان ہیں۔ اللہ ان کے اس جذبے کو قائم رکھے۔ اور انہیں دونوں جہاں کی کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین۔

8.   فضیلۃ الشیخ أبوالوسیم سمیع اختر الأزہری حفظہ اللہ (نیپال)
عربی ادب کے بہترین استاذ ہیں۔ بڑے ہی رعب دار  شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا مزا ج سمجھنا ہر کسی کے لئے بہت مشکل کام تھا۔ اس لئے طلباء عموما ان سے سہمے ہوئے رہتے تھے۔ کیوں کہ غصے کے وقت بڑے ہی غضب ناک ہوجاتے تھے۔ ان سے ہمیں شرح ابن عقیل   اور جدید عربی ادب پڑھنے کو ملا۔  بڑے اساتذہ سے پڑھنے کا جو فائدہ ہے وہ سمجھ میں آیا۔ 
فراغت کے بعد  ممبرا ہی میں تدریس کا موقع ملا تو اساتذۂ کرام کے درمیان اٹھنے بیٹھنے میں جھجھک محسوس کرتا تھا۔ شیخ کو اس بات کا ادراک ہوا، اور انہوں نے مجھے درمیان مجلس آواز دے کر اپنے پاس بلایا۔ اور میری ہمت بڑھائی۔ اور اس کے بعد سے شیخ محترم ایک بہت ہی قریبی دوست کی طرح ہوگئے۔ اللہ میرے تئیں ان کی اس محبت اور شفقت کا انہیں بہترین اجر دے۔ اور ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔

9.   فضیلۃ الشیخ حمیداللہ السلفی حفظہ اللہ (اترپردیش)
 اگر ان کا تذکرہ نہ کروں تو یقینا نا انصافی ہوگی۔ شیخ کا اسلوب بہت ہی عمدہ ہے۔ اور بہت محنتی استاذ ہیں۔ میں تو انہیں جامعہ سلفیہ کا ایک انمول ہیرا مانتا ہوں۔ ممبرا کے میرے سب سے بہترین اساتذہ میں  سے ایک ہیں۔ جو ایک استاذ کے ساتھ ساتھ ایک دوست بھی تھے۔  بلا تحقیق کچھ کہنا پسند نہیں کرتے۔ اور جو کچھ بھی انہیں پڑھانے کو دیا جاتا اس کا حق اداکردیتے ہیں۔ ممبرا سے فراغت کے بعد مجھے وہیں کچھ عرصہ تدریس کا موقع ملا۔ اس لئے یہ استاذ میرے بہترین استاذ بھی ہیں اور  بہترین دوست بھی۔ اللہ شیخ کو ترقی کے اعلی منازل پر فائز کرے۔ اور ان کی خدمات کو قبول کرے۔ آمین

10.  محترم جناب ماسٹر شاہد انصاری حفظہ اللہ (مالیگاؤں، مہاراشٹر)
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ طلباء کی ذہنی نشوونما کے لئے کھیل کود اور ریاضت بہت ہی ضروری ہے۔ اور شاہد سر کو اسی توسط سے ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔ واقعی انہوں نے دل وجان سے محنت کرکے ہمارے شعبۂ ریاضت کو آگے بڑھایا۔ انہی کی نگرانی میں ہمیں اپنے مدرسے سے باہر کھیلنے کے کئی مواقع فراہم ہوئے۔ اور الحمد للہ کئی جگہ تو تاریخ ساز کامیابی حاصل ہوئی۔ وہ خود والی بال کے ایک بہترین کھلاڑی تھے۔ اس لئے ہمیں ان کی خاص توجہ ملی۔ نتیجۃً شہر مالیگاؤں کے میئر کپ پر گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے قابض ٹیم کو ہماری ٹیم کے ہاتھوں شکست ہوئی، اور ایک بہت ہی دل چسپ مقابلے کے بعد اس کپ کر ہمارا قبضہ ہوگیا۔ وہ تاریخی مقابلہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ اور جب جب والی بال کے میدان پر اترنے کا موقع ملے گا ہمارے استاذ شاہد سر ضرور یاد آئیں گے۔ اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔ اور انہیں دونوں جہان کی کامیابیاں عطا کرے۔ آمین۔

11.  محترم ماسٹر رفیع الدین  اعظمی حفظہ اللہ(اعظم گڑھ)
جو انہیں جانتے ہوں گے ، واقعی ان کے مزاج سے بھی واقف ہوں گے۔ ہند کے بحریہ  کے ریٹائرڈ فوجی افسر تھے۔  فوجیوں والا رعب  اور جلال  اب تک یاد ہے۔  ایک انوکھی شخصیت کے مالک تھے۔  استاذ کی حیثیت سے تو انہوں نے ہمیں انگریزی پڑھائی۔ لیکن جس وجہ سے وہ مجھے ہمیشہ یاد رہیں گے وہ میرے ساتھ ان کا مشفقانہ رویہ۔ جب ممبرا میں  بہ حیثیت مدرس  میری تقرری ہوئی تو ازہری صاحب اور یہی محترم استاذ تھے جنہوں نے مجھے آگے بڑھایا۔ انہوں نے اپنی ریاضیات اور انگریزی کی گھنٹیاں میرے نام کروادیں، اور پھر مجھے دلاسہ دیتے رہے۔ اور ہر ممکن مدد کی۔ اور ان کے تعامل سے مجھے کبھی یہ احساس تک نہیں ہوا کہ وہ ایک فوجی افسر ہیں۔ اللہ ماسٹر صاحب کو جزائے خیر دے۔  اور ان کی حفاظت فرمائے۔

12.  فضیلۃ المقری  شیخ مظاہر الحق ندوی حفظہ اللہ (مغربی بنگال)
ان کا ذکر نہ کرنا بھی ایک قسم کی ناانصافی ہوگی۔ یہ میرے حفظ کے استاذ ہیں۔ گرچہ ان کے اسلوب اور طریقے سے مجھے اب تک شدید اختلاف ہے۔ لیکن وہ اپنی نیت میں خلوص رکھتے تھے۔ سخت مزاجی ، اور مارپیٹ کی وجہ سے وہ میرے پسندیدہ اساتذہ میں شاید نہ ہوں، لیکن ان کے پند و نصائح، اور تجربات، خصوصا چھٹیوں سے پہلے طلباء کو بلاکر اخلاقی نصائح واقع بہت ہی اہم اور فائدہ مند ہوا کرتے تھے۔ آج بھی ان کی وہ  قیمتی باتیں یاد آتی ہیں تو ان کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ حق گوئی اور بے باکی میں کوئی ان کا ثانی نہیں تھا۔ اور یہی بات مجھے ان کی بڑی اچھی لگتی ہے۔ اللہ قاری صاحب کی حفاظت فرمائے۔ اور انہیں دونوں جہانوں کی کامیابی عطا فرمائے۔ آمین

13.  رفیقِ خاص ،برادرم شمس الرحمن کاظمی رحمہ اللہ (کشن گنج، بہار)
یہ بندہ میرا ہم جماعت ہے۔ لیکن اس کے توسط سے میں جو کچھ سیکھا وہ بالکل ناقابل فراموش ہیں۔ ہم دونوں ایک ساتھ امتحانات کی تیاریاں کرتے تھے۔ حالاں کہ اس کا طریقہ میرے طریقے سے بالکل الگ تھا لیکن مزاج ، فکر اور خیالات بہت حد تک یکساں تھے۔ درجۂ خامس سے فضیلت ثانی تک محض ساڑھے تین سال کا عرصہ اس کی رفاقت نصیب ہوئی لیکن اسی رفاقت نے بہت سارے ان مٹ نقوش دل ودماغ میں کندہ کردیا۔
تقریبا درسیات کے ہر مضمون میں ہم دونوں ایک دوسرے سے مستفیض ہوئے۔ خصوصا انگریزی اور ریاضیات میں الجبراء میں اس نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ اللہ اسے جزائے خیر دے۔میرے دوست جہاں بھی رہو خوش رہنا۔ اور میری دعا ہے کہ کامیابی ہمیشہ تمہاری قدم بوسی کرے۔ آمین۔

یہ وہ اساتذہ تھے جن کی تربیت نے مجھے بہت سے نایاب نکتے، اصول، اسلوب  وغیرہ عطا کئے۔ ان کے علاوہ اور بھی اساتذہ ہیں جنہوں نے یقیناً بہت اچھا پڑھایا۔ اور ان سے بھی بہت کچھ حاصل کیا۔ مختصراً ان کے اسماء  اور ان کی شاہ کار تدریسی کتاب  کا تذکرہ کروں گا.
أ: فضیلۃ الدکتور اقبال احمد المدنی حفظہ اللہ : شیخ ہند میں اسماء الرجال اور اصول حدیث کا ایک معتبر نام ہیں۔ الحمدللہ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ خصوصاً فضیلت ثانی میں کتاب المغازی کا درس یادگار اور بہت ہی مفید ثابت ہوا۔ فللہ الحمد وجزاہ اللہ خیرا۔

ب: فضیلۃ الشیخ عبدالوحید الندوی حفظہ اللہ: بہترین اساتذہ میں سے ایک ہیں۔ بدقسمتی سے ان سے بھی زیادہ استفادہ کا موقع نہیں ملا۔ الأدیان والفرق  کو انہوں نے بہت بہتر انداز سے پڑھایا۔ ممبرا میں دوران تعلیم شیخ ہی ہمارے سرپرست اور ذمہ دار تھے۔ اللہ شیخ محترم کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین

ج: محترم جناب خطاط مامون رشید  حفظہ اللہ: والد محترم کی نگرانی میں بچپن سے ہی ملی تربیت کی وجہ سے الحمد للہ اردو خوش نویسی چلنے کے قابل تھی۔ لیکن خطاطی سیکھنے کا خیال آیا۔ اور پھر وہ خیال کچھ عرصے کے لئے جنون میں بدل گیا۔ اور الحمد للہ مالیگاؤں جاکر ان سے خطاطی سیکھی۔  اللہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

د: محترم جناب ماسٹر مجیب الرحمن حفظہ اللہ (مالدہ، مغربی بنگال): یہ رشتے میں میرے ماموں ہوتے ہیں۔ گرمی کی تعطیلات میں ان سے انگریزی  گرامر سیکھنے کا موقع ملا۔ اور انہوں نے ایسے اسلوب سے پڑھایا کہ آج تک وہ قواعد ذہن میں ثبت ہیں۔  فجزاہ اللہ خیرا

یہ فہرست حتمی نہیں ہے۔بہت سے اساتذہ ہیں جن کا نام اس جگہ نہیں آسکا۔ یہاں صرف  ان اساتذہ کا ذکر کیا ہوں جن سے میری زندگی میں کچھ واضح تدیلیاں رونما ہوئیں۔ وہیں کچھ اساتذہ سے تلخ تجربات بھی ہوئے۔ بہر حال اللہ تمام اساتذۂ کرام کی مغفرت فرمائے۔ اور ان کی خدمات میں ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے۔ آمین۔


۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

0 تبصرے: