Tuesday, August 4, 2015

”ہائے“ میری عقل!


4 اگست 2015
لوگ انگریزی کے چند حروف کیا سیکھ لئے، اپنا مذہب اور اپنی روایت بھی بھول جاتے  ہیں۔ انگریزی ایک زبان ہے۔ میں یہ ہرگز نہیں کہتا ہوں کہ اسے سیکھنا نہیں چاہئے۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ اسے شوق سے سیکھئے ، لیکن یہ کیا کہ آپ زبان کے ساتھ ساتھ ان کی تہذیب کو بھی اپنا رہے  ہیں!!!
جی ہاں ، ہماری نسل کے لئے اب یہ ایک ضرورت بن چکی ہے۔ جب تک "ہیلو،  ہائے " نہ کہہ لیں ان کی انگریزی کا خمار نہیں اترے گا۔ لگتا ہے انگریزی کو حلق سے اتارنے کے لئے قاری صاحب کے حلوے کی طرح "ہائے ہیلو"  پر ریاض ہوتا ہے۔ وگرنہ آخر کیوں  مدرسوں سے پڑھے ہوئے طلباء بھی آج  خراماں خراماں "سلام علیکم " جیسے خوب صورت اور شیریں کلام کو چھوڑ کر اپنے علم اور عقل پر ماتم کرتے ہوئے" ہاے "اور" ہیلو" کہتے نظر آتے ہیں؟
بعض لوگ اس موضوع پر بالکل مقدس گائے ثابت ہوئے ہیں۔ اور وہ اس قسم کی نشریات اور ہفوات کو پھیلاتے ہیں کہ "ہیلو" کہنا حرام ہے۔ اور اس کا مفہوم " جہنمی" ہے۔ اور ان کے مطابق انگریز خود بھی "ہیلو" نہ کہہ کر "ہائے" سے مخاطب ہوتے ہیں۔ بس ایسے لوگوں کی بزرگ اور مقدس فہمائش پر افسوس ہی کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ مجھے تو اب تک انگریزی کی کسی بھی قاموس میں "ہیلو" کا مطلب "جہنمی" نہیں ملا ہے۔ اور بہت سے انگریزوں سے میں نے خود "ہیلو " کہتے ہوئے سنا ہے۔ اس لئے خدارا اس غلط بات کو نشر کرکے خود کو اور امت کو نشانۂ مذاق نہ بنائیں۔
ہمارے لئے بس اتنی سی حجت کافی ہے کہ "السلام علیکم" کہنے پر مفت میں ثواب کے حق دار ہوں گے۔ جب کہ "ہیلو" یا "ہائے" کہنے پر اس ثواب سے محروم ہوجائیں گے۔ اب کوئی عقل سے پیدل ہی ہوگا جو مفت کے ثواب کو چھوڑ کر انگریزوں کی سنت پر عمل کرے گا۔

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی
Post a Comment