Sunday, July 5, 2015

کیا نجدی کافر ہیں؟


نجد اور اہل نجد کے تعلق سے مسلمانوں میں خصوصا بر صغیر کے مسلمانوں میں دو مختلف آراء  ہیں۔
ایک وہ ہیں جو اعتدال کے راستے پر ہیں۔ اور دوسرے جو شدت پسندی اور تفریط سے کام لیتے ہیں۔
اعتدال  پسندوں کے نزدیک نجد اور اہل نجد میں تفصیل ہے۔ نجد کے سلسلے میں وارد احادیث وروایات کا عموم پر اطلا ق نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ یہ روایات فتنے  کے باب کی ہیں۔ یعنی وہاں سے فتنے سر اٹھائیں گے۔ اور بکثرت فتنے ہوں گے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہاں کا ہر باشندہ فتنہ پرور ہو۔ بلکہ وہاں صلحاء اور اچھے افراد و جماعت بھی ہوں گے۔اور اللہ ان کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا۔
اس کے برعکس متشددین  یہ ثابت کر نے میں لگے  ہوئے ہیں کہ ہر نجدی نعوذ باللہ گمراہ یاجہنمی ہے۔تعجب ہے  ایسے لوگ علامہ اور فہامہ بھی کہلاتے ہیں !!!
جس حدیث سے  یہ حضرات    نجدی کے گمراہ ہونے پر استدلال کرتے ہیں اسی حدیث میں ہے کہ ”اہل نجد نے نجد کے لئے دعا ءکی درخواست کی“   جس سے ثابت ہوتا ہےکہ  صحابہ میں بھی نجدی موجود تھے، ورنہ دعا ء کی درخواست نہیں کرتے!!
صحابہ کے نجدی ہونے پر ثبوت کے لئے ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں:
صحیح بخاری:  جلد اول:  حدیث نمبر 1442:  زید بن جبیر نے بیان کیا کہ وہ عبداللہبن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی قیام گاہ پر آئے۔ ان کے خیمے لگے تھے اور قناتیں کھڑی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ میرے لئے کہاں سے عمرہ کا احرام باندھنا جائز ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجد کے لئے قرن، اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ اور شام کے لئے جحفہ کومیقات مقرر کیا ہے۔
غور طلب امر یہ ہے کہ  جب نجدی کافر ہی ٹھہرےتو ان کے لئے حج کا کیا مطلب؟؟!!کیا ضرورت ان کو میقات کی؟؟!!کیا اللہ کے رسول ﷺ نے جان بوجھ کر کافروں کے لئے میقات مقرر فرمایا،اور انہیں حرم میں داخلے کی اجازت بھی دی (نعوذباللہ)۔
دل پرہاتھ رکھ رکر کوئی فیصلہ کیجئے گا  !!ان صحابیوں کو کیا کہئے گا جو نجدی تھے ؟ 
اور اگر اسی کو قاعدہ مان لیا جائے تو اس کا مفہوم مخالف تو یہ ہوگاکہ جن  جن علاقوں کے تعلق سے برکت کی  پیشین گوئی ہوئی وہاں کا بد عقیدہ بھی بابرکت ہوگا!؟؟ نعوذ باللہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابئ  بھی تو مدنی تھا !! تب تو وہ بھی بابرکت ہوگیا؟؟
   احادیث  کی روشنی سے معلوم ہوتا ہے کہ بے شمار صحابہ نجدی تھے۔تب تو اس قاعدے کے مطابق نجدی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی   محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی طرح گمراہ  ٹھہریں گے ؟؟!!( نعوذ باللہ)۔
اگر صحابہ گمراہ ہیں تو شوق سے نجدیوں کو گمراہ کہیں ہمیں خوشی ہوگی ایسی گمرہی پر!!!
اسلام میں اعتدال کو پسند کیا گیا ہے۔ اور تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور اسی طرح شریعت میں صراحتاً تکفیر بھی ایک ناپسندیدہ اور ممنوع عمل ہے۔ اس کے بہت سے اصول ہیں۔ ان سب کی موجودگی کے بعد ہی کسی کی تکفیر کی گنجائش ہے۔ اس لئے میں قارئین کو دعوت دیتا ہوں کہ برائے مہربانی اعتدال کا دامن نہ چھوڑیں۔ اور اہل نجد کو اور نجد کی طرف منسوب لوگوں کی تکفیر کرکے اپنا ایمان خطرے میں نہ ڈالیں!!


۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی
Post a Comment