Wednesday, February 4, 2015

اور اردو پیدا ہوئی


اردو دنیا کی شیریں ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ بھی بڑی نرالی ہے۔ گوکہ اس کی ابتداء  کا سہرا مغلوں کے سر باندھا جاتا ہے ،لیکن یہ سراسر ظلم اور غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس زبان کی ابتداء1001ء؁میں ہی ہو چکی تھی۔اور 12 ویں صدی عیسوی تک اس زبان کے سینکڑوں الفاظ عام ہوچکے تھے ۔
اردو کی پیدائش میں تاریخی اعتبار سے سلطان محمود غزنوی کا بڑا اہم کردار رہاہے۔ انہوں نے ہندوستان پر 17 مرتبہ حملہ کیا تھا اور ان 17 مرتبہ کی آمدو رفت میں ہندوستانیوں کو لامحالہ ان کی زبان سے روبرو ہونا پڑا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس دور کی بولی جانے والی زبان "بھاشا" میں  غیر ملکی الفاظ کا استعمال شروع ہوگیا۔ اور ایک نئی زبان وجود میں آئی۔ یہی وہ زبان ہے جسے ہم اور آپ بولتے ،سمجھتے اور پڑھتے ہیں ۔ یعنی ہماری پیاری زبان "اردو"۔  اس کا ثبوت ہندوستان میں دہلی پر حکومت کرنے والے راجا پرتھی راج کے زمانےکی  ایک نایاب کتاب ہے۔ (اس راجہ کو سلطان محمود غزنوی نے اپنے دوسرے حملے میں 1192 ء ؁ شکست دی تھی)۔ اس راجا کے دربار میں ایک شاعر ہوا کرتا تھا جس کانام "چند بردائی" تھا ۔ اس نے  راجا پرتھی راج کے دورکے مختلف واقعات کو قلم بند کیا تھا۔اس کی اس کتاب کا نام " پرتھی راج راسَو " ہے۔ جو تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اور اس کے تقریبا  70 حصے ہیں۔ اس کتاب سے ماخوذ بعض اشعار کو پڑھ کر آپ کو تعجب ہوگا، کیوں کہ بارہویں صدی کی زبان اور آج کی اردو میں آپ کو کوئی خاص فرق نظر نہیں آوے گا۔


بعض اشعار حاضرِ خدمت ہیں:
(پرتھی راج کا ایک درباری   جس کا نام "کانہا" تھا، جو  7دنوں سے دربار میں حاضر نہیں ہورہا تھا، تو راجہ خود اس کی مزاج پرسی کے لئے اس کے گھر جاتاہے۔ اسی کو چند بردائی  یوں بیان کرتے ہیں)
سات  دِوَس  جب  گئے     کا نھہ د ر با ر   نہ  آ ئے
تب    پر تھی   راج   کُمار   آپ  منائے   گِرہ   جائے
پھر  ملے چند  بردائی آئے   کچھ کہی بات  پچھلی سنائے  
دِوَس = دن،   گِرِہ = گھر    (ہندی میں آج بھی ان الفاظ کا استعمال ہوتا ہے)۔
چند مختلف اشعار ملاحظہ کریں:
اپنے اپنے ڈیرے آئے    سب گھائل کے گھاؤ بندھائے

اپنے گھر تب آئے کر     تیل  لیو مَن  ایک
آئے کر = آکر ،           لیو =لیا 


ایہی تیرتھ آئے  ہُتے    کِئے  آ گے  کوئی  کام
ہُتے = تھے

پرتھی راج راسو میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کامفہوم بالکل غیر واضح اور مشکل ترین ہے۔ اور بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو صرف سنسکرت یا ہندی میں استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس میں سینکڑوں الفاظ ایسے ہیں جو آج کی اردو میں  ہوبہو موجود ہیں۔ اس لئے یہ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اردو کی پیدائش  گیارہویں صدی عیسوی میں ہی ہوچکی تھی۔

تحقیق وترتیب : ظفر ابن ندوی 


۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی
Post a Comment