Monday, November 3, 2014

شیر شاہ آبادی ہا


شاید آپ یہ عنوان دیکھ کر چونک گئے ہوں۔ تو آئیے ذرا اس لفظ اور اس کے وارثین کے بارے میں کچھ جائزہ لیتے ہیں۔
میری زندگی اور خانہ بدوشی تقریبا مترادفات میں سے ہیں۔ وہ یوں کہ خانہ بدوشوں کی طرح کسی ایک شہر کو اپنا شہر یا قریہ نہیں کہہ سکتا ہوں۔ پیدائش سے لے کر اب تک مسلسل خانہ بدوشی ہی میری تقدیر کا ایک لازوال  حصہ بنی ہوئی ہے۔ بچپن کی تقریبا آٹھ بہاریں تو اتر پردیش میں گذریں، پھر وہاں سے کچھ عرصے کے لئے آبائی وطن آنا ہوا۔ اور اس کے بعد جو وطن اور اپنوں سے دور ہوا تو اب تک قربت کا کوئی راستہ نظر ہی نہیں آتا۔

میں یہاں اپنی سوانح لکھنا نہیں چاہتا۔ لیکن جس وجہ سے یہ مضمون لکھ رہاہوں وہ میری زندگی سے ہی منسلک ہے۔ وطن سے دور جب والد صاحب تدریسی خدمات کے لئے مہاراشٹر گئے، تو وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ ظاہر ہے حکومت کے دفتری امور میں اندراج ضروری تھا۔ سو اس زمانے میں صرف نام لکھوا دیا۔ اور ضروری کاغذات بنوالئے۔ کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ بس یوں ہی سمجھئے۔ ابتداء میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوا، لیکن جب کاغذات کی تیاری میں "سَر نیم" کی ضرورت پڑی تو ماتھا ٹھنکا، کہ آخر ہمارا "سَر نیم" ہے کیا؟ اور یہیں سے تلاش شروع ہوئی، اور "شیر شاہ بادی ہا" پر یہ تلاش تقریبا ختم ہوگئی۔ 

نوعمری میں ایک بار والد صاحب سے پوچھا تھا " ابا، ہم کس نسل یا قبیلے سے ہیں؟" تو اس وقت انہوں نے کہا تھا "بیٹا ہمارے یہاں نسلی بھید بھاؤ مٹانے کے لئے قبیلے کا نام نہیں لکھا جاتا۔ ہم لوگ در اصل 'شیخ' قبیلے سے ہیں۔ جن کو سلطان شیر شاہ سوری نے اس علاقے میں بسایا تھا۔ اس لئے ہم کو 'شیر شا بادی' (شیرشاہ آبادی) کہا جاتا ہے۔" وہ بات آئی اور چلی گئی۔ اب جب کاغذات میں سَر نیم شامل کرنے نوبت آئی تو میں نے سوچا کہ اس معاملے کی تحقیق کرلینی چاہئے۔ تب میں نے کئی جگہ تلاش کیا تو پتہ چلا کہ والد صاحب کی بات صد فی صد درست تھی۔

ہمارے علاقے میں بسنے والی مسلم آبادی جن کی اکثریت سلفی ہے وہ خود کو شیرشاہ آبادی کہلواتے ہیں۔ دراصل سلطان شیرشاہ سوری نے پورنیہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ان کے آباء و اجداد کو آباد کیا تھا۔ اس آبادی کو فارسی میں " شیر شاہ آبادی ہا" کہا جاتا تھا۔ یعنی "وہ آبادی جسے شیر شاہ نے بسایا"۔ بعد میں اس لفظ کو ہی اس قوم کی شناخت کے طور پر اپنالیا گیا۔ اور زبان زد ہوکر یہ لفظ "شیر شاہ باد یا" ہو گیا۔ یہ کافی وسیع پیمانے پر پھیلی ایک مسلم آبادی ہے۔ جو ہندوستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں آباد ہے۔ ہندوستان میں یہ تین مختلف ریاست بہار، مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کی آپسی سرحدوں کے اضلاع میں یہ پھیلے ہوئے ہیں۔ جن میں بہار کے کٹیہار، پورنیہ، ارریہ، کشن گنج، سپول مغربی بنگال کے مالدہ، مرشدآباد، بردوان، ندیا، اتردیناجپور اور جھارکھنڈ کے  صاحب گنج و پاکوڑ  اضلاع شامل ہیں۔ بنگلہ دیش کے چاپائی نواب گنج اور نیپال میں سپول سے متصل کچھ علاقوں میں آباد ہیں۔
بہار میں یہ "شیخ" قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ مغربی بنگال میں ان کا تعلق " بیدیہ " قبیلے سے ہے۔  اس لئے انہیں کئی ناموں سے جانا جاتا ہے۔ شیرشاہ بادی ہا سے مختصر کرکے "بادھیا"  (بادی ہا کی زبان زد شکل) بھی کہا جاتا ہے۔ اور غالبا یہی نام مغربی بنگال میں جاکر "بیدیہ" ہوگیا ہو جس کی وجہ سے ان کو "بادیا" بھی کہا جاتا ہے۔

زبان و محل وقوع: 

یہ قوم برصغیر کے تین ممالک ہندوستان، نیپال اور بنگلہ دیش کے مخصوص خطوں میں آباد ہے۔ ہندوستانی ریاست مغربی بنگال کے مالدہ، مرشدآباد، ندیا اور بردوان کے کچھ علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح بہار کے کٹیہار، پورنیہ، کشن گنج، سپول، اور ارریہ کے بعض علاقوں میں یہ موجود ہیں۔ اور جھارکھنڈ کے دو اضلاع صاحب گنج اور پاکوڑ میں ان کی آبادی ہے۔ آسام میں بھی ان کی تعداد موجود ہے۔
نیپال کے سرحدی علاقے میں بھی یہ بستے ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے سرحدی ضلع چاپائی نواب گنج میں بھی ان کی اچھی تعداد موجود ہے۔
گرچہ یہ قوم مذکورہ تین ممالک کے مختلف خطوں میں آباد ہے، جہاں کی علاقائی اور دفتری زبانیں بالکل مختلف ہیں ۔ لیکن اس قوم  کی مادری زبان بہر حال بنگلہ ہے۔ جس کو وہ اپنے الگ لہجے میں بولتے ہیں۔ اور اس خاص لہجے کو بادھیا یا شیرشاہ آبادی لہجہ کہا جاتا ہے۔ جوکہ صرف بولی ہے۔ ابھی تک اس بولی کو زبان کادرجہ نہیں ملا ہے۔
 ذریعۂ معاش کی تلاش میں ان کے نوجوان اور ادھیڑ عمر کے افراد دیگر ریاستوں کا رخ کرنے لگے۔ پہلے یہ سلسلہ بہت کم تھا، لیکن اب تو تقریبا ہر گھر کا ایک فرد گھر سے باہر کسی دوسری ریاست یا دوسرے ملک میں مقیم ہے۔ اور اسی وجہ سے انہیں مجبوراً دوسری زبان کی ضرورت ہوئی۔ اور وہ بنگلہ کے علاوہ اردو بولنے لگے۔ لیکن بنگلہ زبان کے لہجے اور بناوٹ کی وجہ سے عموما یہ پہچان لئے جاتے ہیں۔
بنگلہ زبان کی دو بنیادی انفرادیت یہ ہے کہ اس زبان میں تذکیر وتانیث کے لئے الگ صیغے نہیں ہوتے ہیں، اس لئے یہ لوگ اردو یا ہندی میں بھی یہ فرق نہیں کرپاتے ہیں۔ اور بنگلہ زبان کے تمام الفاظ کا تلفظ تقریبا گول پڑھا جاتا ہے۔ اس لئے یہ اردو یا ہندی کے الفاظ کو بھی اسی اندازسے پڑھتے ہیں۔ اورانہی دو وجوہات کی بنا پر یہ اہل اردو و ہندی افراد کا نشانۂ تضحیک بنتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف "شیرشاہ آبادیوں" کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ تمام بنگلہ بولنے والوں کا ہے۔ الا ماشاء اللہ۔
 ریاستی اور لسانی عصبیت کا جب دور چلا تب سے بہار کے علاقوں میں آباد شیرشاہ بادیوں کے لئے ہندی سیکھنا ضروری ہوگیا۔ پہلے ان کی مادری زبان کا خیال کرتے ہوئے بہار میں بھی اسکولوں میں بنگلہ زبان میں پڑھائی ہوتی تھی، اور نصاب میں بنگلہ کی کتابیں شامل تھیں، یا یوں کہیں کہ پورا نصاب ہی بنگلہ میں تھا۔ لیکن اب اسکولوں سے بنگلہ زبان کو نکال دیا گیا ہے۔ اس لئے بہار میں آباد شیر شاہ آبادیوں کی زبان میں خاصا بدلاؤ آگیا ہے۔ ان کی مادری زبان میں اب اردو اور ہندی کے بہت سے الفاظ شامل ہوگئے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے وہ دن بھی آئے گا جب دونوں کی زبانیں بہت حد تک مختلف ہوجائیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح ہندی اور اردو میں اختلاف ہے۔

رہن سہن:
اس قوم کی عوام عموما ان پڑھ، محنت کش اور کسان ہے۔ اور یہ گنگا اور اس کی شاخوں کی وادیوں میں آباد ہے۔ جو پڑھتے ہیں وہ زیادہ  تر مدرسوں اور مکتبوں کی دین ہیں۔ اس لئے اس علاقے میں مولوی زیادہ پائے جاتے ہیں۔  اور الحمد للہ امور اور قابل  علماء کی خاصی تعداد بھی موجود ہے۔ مدارس میں پرانا نظامی نصاب شامل ہے، جو دور حاضر کی ضروریات سے یکسر مختلف ہے۔ جس کی وجہ سے  یہاں کے طلبہ آگے بڑھ نہیں پاتے۔ اور ترقی کے لئے عموما دیگر ریاستوں میں جانا ضروری تصور کرتے ہیں۔
 پسندیدہ کھانا عموماً موٹا چاول ہے، جسےاُسنا، بھنا یا بُھجیا چاول بھی کہتے ہیں۔ روٹی صرف صبح ناشتے میں کھاتے ہیں۔ اور امیر گھرانوں میں صبح بھی چاول سے ہی ناشتہ ہوتا ہے۔ چاول کے ساتھ مچھلی مرغوب غذا ہے جو ندیوں کی کثرت کی وجہ سے وافر مقدار میں موجود بھی ہے۔ نوجوان اور پڑھا لکھا طبقہ شرٹ اور لنگی پہنتا ہے۔ ادھیڑ عمری کے بعد عموما یہ شرٹ کی بجائے کرتا اور لنگی پہنتے ہیں۔ لنگی یہاں کا خاصہ اور جغرافیائی ضرورت بھی ہے۔ عورتیں شادی سے پہلے شلوار قمیص پہنتی ہیں، اور شادی کے بعد ساڑی۔ اور ساڑی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ یہ عورت شادی شدہ ہے۔

یہ عموماً کچے مکانوں میں رہتے ہیں۔ بہار میں یہ کچے مکان "کھر" جو ایک قسم کی قد آدم گھاس ہے اس سے مکانوں کی دیواریں اور چھپر بناتے ہیں۔ جب کہ مغربی بنگال میں مٹی کی دیواریں اور مٹی کے "کویلو" سے ڈھلوان چھپر نما چھت بناتے ہیں۔ چوں کہ بہار میں یہ گنگا اور دیگر ندیوں کے آس پاس آباد ہیں، اور ہر سال سیلاب جیسی قدرتی آفت سے دوچار ہوتے ہیں، اس لئے انہیں" کھر" نامی گھاس کی دیوار اور چھپر سے کافی مدد ملتی ہے۔ جو سیلاب میں کسی بھی بڑے نقصان سے بچاتی ہے۔ اب جب کہ ترقیات کا دور ہے تو لوگ پختہ کانکریٹ کی عمارتیں بھی بنوارہے ہیں۔ جس میں حکومت بہار کی امداد بھی شامل ہے۔ 

بادھیا گیت
اس قوم کا ایک خاصہ شادی بیاہ کے موقعوں پر گائی جانے والی گیت ہے۔ جو عورتیں جھنڈ کی شکل میں گاتی ہیں۔ جو اب تک کتابی شکل میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ بس سینہ بہ سینہ یہ نغمے محفوظ ہوتے آئے ہیں۔
ان گیتوں کا انداز بہت ہی نرالا اور دل چسپ ہے۔ مختلف موضوعات پر ازدواجی زندگی کے احوال کو نظم کی شکل میں گایا جاتا ہے۔
مثلا:
1 ۔ آنگنا جھوم جھوم جوڑ کوبیتور ۔۔۔۔۔ باجے
2 ۔ ناودا پاڑار چھونڑا گالا سوبھائی کوکور
3 ۔ کانکھے کولوس کورے بیہولا
یہ گیت اس قوم کی ادب کا ایک نایاب حصہ ہیں۔ جن کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا اس قوم کی ذمہ داری ہے۔

یہ علاقے مسلم اکثریتی ہونے کی وجہ سے ہمیشہ دونظری اور تعصب کے شکار رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ان علاقوں میں کسی بھی قسم کے ترقیاتی پیکیج عموما نہیں پہونچتے۔ بعد میں اس دونظری کے خلاف کئی احتجاج ہوئے، اور اس پر کمیشن بھی بنائی گئی۔ لیکن دو نظری اب بھی برقرار ہے۔ ہاں کچھ ترقیاتی امور ضرور ہوئے ہیں، لیکن امید سے بہت کم۔ جس میں اس علاقے میں آباد مسلمانوں کی خود اپنی ہی کوتاہیاں اور غلطیاں بھی ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ اس علاقے کے مسلمانوں میں انقلاب لایا جائے۔ اور عوامی بیداری کی تحریک چلائی جائے۔ اور یہ ذمہ داری یہاں کے علماء پر عائد ہوتی ہے۔ اب علماء کو اپنے مفاد چھوڑ کر قوم کی ترقی کے لئے قربانیاں دینی ہوں گی۔ تبھی یہ پچھڑا پن ختم ہوسکے گا۔

ملاحظہ:اس مضمون میں شیر شاہ آبادیوں کے تعلق سے  کچھ حقائق میرے ذاتی مشاہدے پر مبنی ہیں، اس لئے قارئین کو اگر کسی بات سے اختلاف ہو یا غلط لگے تو مجھے ضرور آگاہ کیجئے۔ 
ظفؔر شیر شاہ آبادی




۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook



۞۞۞
Follow me on Facebook
۞۞۞