Friday, January 27, 2017

تبت یدا ہوگئے

0 تبصرے
جو     فدا یانِ    راہِ      ہدا    ہو گئے
سارے   حق  ان  کے  مانو  ادا  ہوگئے

ہو کے  امی  بھی  وہ  رہ  نما  ہو  گئے
کشتیٔ     علم    کے   نا خدا   ہو   گئے

جو تھے دشمن کبھی میرے  سرکار کے
حسنِ   اخلاق    پر    وہ   فدا   ہو گئے

جب  سے رستہ ملا مصطفی کا مجھے  
کفر   کے   سارے   رستے  جدا   ہو گئے

اس کے بد بخت ہاتھوں کی گستاخیاں
تا  قیامت     وہ   تبت     یدا    ہو  گئے

 شاہِ   بطحا    کی   ہے  تربیت  یہ ظفؔر
ایک  ہی  صف  میں  شاہ  و گدا ہو گئے

Saturday, January 7, 2017

فیلڈ ورک

0 تبصرے
کسی بھی کامیاب سیاست دان کی کامیابی اس کی زمینی محنت یعنی فلیڈ ورک کے بہ قدر ہوتی ہے۔ 
زمینی ورک کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو بدعنوان اور مفاد پرست سیاست دانوں کا فیلڈ ورک اور دوسرا جو ایمان داری کے دعوے کے ساتھ میدان میں اترنے والوں کا فیلڈ ورک! 

اول الذکر کے لئے فیلڈ ورکس بہت مختصر اور مختلف طریقے کے ہوتے ہیں۔ وہ عوام کے طبقات کے اعتبار سے فیلڈ ورک کا انتخاب کرتے ہیں۔ بالکل ان پڑھ اور غریب و بے کس عوام کے لئے ان کا فیلڈ ورک بس انتخاب سے چند ساعات قبل چند ٹکڑے پھینک جاتے ہیں۔ اور وہی عوام جو پانچ سال تک حکومت کو کوستی رہتی ہے انہی ٹکڑوں پر پل پڑتے ہیں۔ ایمان ویمان ظرف ورف سب بک جاتا ہے۔ اور جب تک یہ نشہ اترتا ہے تب تک ان شاطر رہنماؤں کی قسمت لکھی جاچکی ہوتی ہے۔ پھر عوام مینڈکوں کی طرح ٹرٹراتے پھرتے ہیں۔ اور انہیں رہنماؤں کو کوستے ہیں جن سے کبھی ضمیر و ظرف کا سودا کیا تھا۔

میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ بعض لوگ تو اس طرز حکومت پر ایمان لاچکے ہیں۔ یعنی ان کا ایمان ہے کہ ان بد عنوانوں کو کبھی بھی ہرایا نہیں جاسکتا ہے۔ اس لئے خواہ مخواہ اپنے ووٹ برباد کرنے سے بہ تر ہوگا کہ اپنا ضمیر بیچ کر وقتی طور پر ہی سہی کچھ فائدہ تو ہوجائے۔

یہ تو صرف ایک طریقہ ہے۔ ورنہ ان کے کوزے میں نہ جانے اور کتنے طریقے ہیں۔ کبھی بین المذاہب نفرت بھڑکا کر،  کبھی ایک ایک ہی مذہب کے مختلف فرقوں کے مابین غلط فہمیاں بڑھا کر۔ کبھی خوف کو عام کرکے۔ اور کبھی صاف شبیہ کے امیدوار کے خلاف سازش کرکے۔
اور ایک ہوائی محنت بھی ہے۔ جو مختلف ذرائع ابلاغ میں جھوٹی تشہیر کے ذریعے عوام کو بہکاتے ہیں۔

اور ماشاء اللہ عوام اتنی "اسمارٹ" ہے کہ جب سب کچھ ختم ہوجاتا ہے تب سمجھ پاتی ہے کہ اسے کوئی الو بنا گیا ہے۔

خیر اتنے کار آمد زمینی محنتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہوگی۔ اور ان کے تمام طریقوں کے مد مقابل مضبوط و کار آمد طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

ظاہر ہے ایک ایمان دار رہنما عوام کو پیسوں کی لالچ نہیں دے گا۔ مدمقابل کے اس پینترے کو نیست و نابود کرنے کے لئے سب سے پہلے عوام سے رابطہ بنانا ہوگا۔ جذباتی تقریروں کے ساتھ ساتھ مدمقابل کی ناکامیوں پر ایک ایک کرکے نشان لگانا ہوگا۔ عوام آپ پر کیوں بھروسہ کرے یہ بھی انہیں سمجھانا ہوگا۔ اور ان کے ضمیر کو جھنجھوڑنا ہوگا۔
اس کام کے لئے خود کی محنت کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ طور پر محنت کرنے والوں کی ایک بڑی جماعت کی ضرورت ہے۔ جو ہر علاقے سے ہوں۔ اور وہ اپنے ہی علاقے میں عوام کو ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کریں۔
نکڑ ناٹک، شاعری، اور آج کے دور میں سوشل میڈیا۔ خصوصا واٹس ایپ وغیرہ۔ 
یہ کارکنان بازاروں اور عوامی جگہوں پر جاکر لوگوں کو نت نئے طریقوں سے سمجھائیں۔

اور مدمقابل کے پیسوں کا جواب اس طرح بھی دیا جاسکتا ہے کہ انتخابی تشہیر کے شروعاتی دور سے کچھ رفاہی کام بھی کئے جائیں۔

وہ مذہبی منافرت پھیلائیں گے۔ آپ کو مذہب سے اوپر اٹھنا ہے۔ ہر مذہب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش اور مظاہرہ کرنا ہے۔

مد مقابل کی خامیوں اور بدعنوانیوں کے ثبوت بھی ساتھ رکھیں۔ اور عوام کے سامنے پیش کریں۔ اور عوام کے لئے اپنے مفاد سے دست بردار ہونا پڑے تو وہ بھی قبول کرلیں۔

کہیں کچھ پرانے رہنما جو آپ کی جماعت سے نہیں ہیں، لیکن وہ مقبول ہیں۔ اور مثبت محنت ہوئی تو ان کے جیتنے کے آثار زیادہ ہیں تو وہاں اپنے امیدوار نہ کھڑے کریں۔ بلکہ ان کی حمایت کریں۔ گرچہ وہ آپ کے حریف ہی کیوں نہ ہوں۔ 

اور بھی بہت سی باتیں ہیں۔ جن کے لئے طویل و عریض مضمون لکھنا ہوگا۔

Monday, December 26, 2016

گاؤں کی پر سکون زمیں چاہئے مجھے

0 تبصرے

 موجِ سخن فیس بک گروپ کے 166 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔

ختمِ رسل کی شرعِ متیں چاہئے مجھے
فرقوں کی مغز ماری نہیں چاہئے مجھے

مجھ کو سمجھ سکے وہ قریں چایئے مجھے
سیرت سے ہم سفر بھی حسیں چاہئے مجھے

یا رب مجھے بھی آہنی جذبہ نواز دے
خود سے بھی لڑ سکوں وہ یقیں چاہئے مجھے

 دنیا کی جستجو میں تجھے بھول چکا میں
سجدوں میں ہو مگن وہ جبیں چاہئے مجھے

شہروں کے شور و غل سے بہت اوب چکا ہوں
گاؤں کی پر سکون زمیں چاہئے مجھے

مظلومیت کا میں ہوں علَم نام ہے حلَب
انصاف کو عمر سا امیں چاہئے مجھے

  دنیا میں نعمتیں تو بہت تو نے دیں مجھے
عُقبیٰ میں تیری خلدِ بریں چاہیے مجھے

تیری نوازشوں کا طلب گار ہے ظفؔر 
احسان اب کسی کا نہیں چاہئے مجھے

سفاک دیکھنا ہو تو بشار دیکھنا

0 تبصرے
 موجِ سخن فیس بک گروپ کے 165 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔



سفاک دیکھنا ہو تو بشّار دیکھنا
فرعون صفت ظالم و خوں خوار دیکھنا

مسلک الگ ہے ان کا تو مر جانے دیجئے
ہم کو فقط ہے مسند و دستار دیکھنا

مقصد فقط ہے تجھ کو ستانے کا یہ صنم
غصے کے وقت زردیٔ رخسار دیکھنا

دھوکے بہت ملے ہیں اسی کار و بار میں
اب دوستی سے قبل ہے کردار دیکھنا

میرے بغیر تجھ کو سکوں مل سکے گا کیا
میں بھی تڑپ رہا ہوں مرے یار دیکھنا

کردار یاں پہ کون تلاشے ہے ناصحا
اب ہم سفر بھی ہم کو ہے زر دار دیکھنا

جملوں کے شہ سوار نے نوٹوں کو رد کیا
کیا اور گل کھلائے گی سرکار دیکھنا

میں کیا کہوں کہ آج سراپا ہی گوش ہوں
سرگوشیوں میں مجھ کو ہے اظہار دیکھنا

ہنستے ہو تم جو آج ظفؔر پر تو ہنس بھی لو
رسوائی نا ملے سرِ بازار دیکھنا

Friday, December 16, 2016

حلب کا فرقہ کیا ہے؟

0 تبصرے
حلب پر میں کیا کہوں! اور کیا لکھوں!!؟ ویڈیوز دیکھنے کے بعد اب کچھ کہنے کے لئے بچا ہی کیا ہے! 

لوگ اپنے اپنے طرز پر چند پرسوز تحریریں لکھیں گے۔ نئے نئے #ہیش_ٹیگ بنیں گے۔ کچھ ایام تک یوں ہی یہ سلسلہ چلے گا۔ پھر برما کی نسل کشی کی طرح شام بھی جل چکا ہوگا۔ اور تب تک ہم سبھوں کو کوئی نہ کوئی نیا موضوع مل ہی جائے گا۔ اور قوم کی بے حسی میں اضافہ ہوتا ہی جائے گا۔

ہمیں ہر ماہ اپنے مخالف فرقوں پر دھواں دھار تقریریں کرنے کی عادت سی پڑی ہوئی ہے۔ ہم اسی میں بالکل کمفرٹیبل ہیں۔

 گذشتہ چند سالوں میں فیس بک اور ٹویٹر پر یہی ہوتا آرہا ہے۔ ہم اپنی مسندوں کو بچانے کے چکر میں قوم کو خود بانٹ رہے ہیں۔ قوم میں فروعی مسائل پر اتحاد قیامت تک شاید ناممکنات میں سے ہے۔ لیکن ملی اتحاد ممکن ہے۔ جس کی کئی مثالیں ماضی میں موجود ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج شام کی اس بدترین حالت میں ہم فرقہ فرقہ کھیل رہے ہیں! 

ہند میں حال ہی میں مسلم پرسنل لاء کو لے کر جو باتیں ہوئیں۔ اس وقت بھی سب فرقہ فرقہ کھیل رہے تھے۔ بھئی یہ کھیل تو چلتا رہے گا۔ لیکن کھیل کھیل میں دشمن آپ سے کھیل لے گا۔ اور یہ ضرور یاد رکھیں کہ یہ حالات آج شام میں ہیں کل کو آپ کا شہر بھی حلب بن سکتا ہے! پھر بھی کھیلتے رہو! میں بھی خواہ مخواہ بکے جارہا ہوں۔

Friday, November 11, 2016

کیوں ہو پرواہ مجھے سچ ہے وظیفہ میرا

0 تبصرے
ْ
                 تابعِ سنت و قرآں ہے عقیدہ میرا
                میں مسلمان ہوں ایماں ہے سلیقہ میرا

                نت نئے ہیں یہاں بدعات و خرافات بہت
                ان سے نفرت ہے کہ سنت ہے وطیرہ میرا

                گرچہ ہے میرا مخالف یہ زمانہ سارا
                کیوں ہو پرواہ مجھے سچ ہے وظیفہ میرا

                اب تو مسلک کی لڑائی کو ذرا رہنے دیں
                ورنہ پھر ڈوب ہی جائے گا سفینہ میرا

                مرے انداز پہ انگشت نمائی اس کی
                شاید اس نے نہیں دیکھا ہے طریقہ میرا

                میری تقدیر میں جو ہے وہ ملے گا مجھ کو
                چھین لے گا وہ سمجھتا ہے نصیبہ میرا

                ہو میسر مجھے جنت میں نبی کی صحبت
                کر لے منظور الہی یہ عریضہ میرا

                مرے دشمن کے فریبوں سے ہوئے ہو بد ظن
                سچ کو جانو تو سہی پڑھ لو صحیفہ میرا

              ان کو بتلا دو ظفؔر میرا نسب کیسا ہے
              خیرِ امت ہوں، ہے اسلام قبیلہ میرا

Saturday, November 5, 2016

مجھ کو اونچائی تلک یہ فیصلہ لے جائے گا

0 تبصرے

شیر شاہ آبادی انٹلیکوچئیل گروپ کے طرحی مشاعرے میں پیش کی گئی غزل


ایک  دن  یہ  فخر   تیرا  مرتبہ   لے  جائے گا
تجھ سے تیرے دوستوں کا دائرہ لے جائے گا

اس کی محفل میں نہ جانا وہ بڑا بے ذوق ہے
 وہ   تری  ہر حس ترا  ہر  ذائقہ  لے  جائے  گا

مت ملانا اس کی نظروں سے کبھی اپنی نظر
اک  نظر  میں  تیرے  دل کا جائزہ لے جائے گا

 تو  سناتا  ہے  جسے اپنا  سمجھ کر ہر غزل
ہر غزل کا  وہ  ردیف  و  قافیہ  لے جائے  گا

ٹھوکروں سے لے سبق اے  شیر شہ آبادی سن
سمتِ منزل  تجھ  کو  تیرا  تجربہ لے جائے گا

دوریاں اپنوں  سے تیری نا فنا کردیں تجھے
تجھ کو دلدل میں ترا یہ فاصلہ لے جائے گا

اب دیارِ غیر  کو میں بھی کہوں گا خیر باد
مجھ کو اونچائی تلک یہ فیصلہ لے جائے گا

پست ہمت ہے وہ خود کیا مشورہ دے گا مجھے
وہ    مشیرِ   کار    میرا  حوصلہ   لے   جائے   گا

سنت و قرآن ہی بس ہے صراطِ مستقیم
بابِ جنت تک یہی اک راستہ لے جائے گا

راستے  گرچہ کٹھن ہیں پر ظفؔر چلتا ہی جا
منزلوں   تک   پیر  کا  یہ  آبلہ  لے  جائے  گا

کچھ آپ بھی تو سیکھئے غیروں کو دیکھ کر

0 تبصرے


پڑھتے ہیں وہ دلوں کو بھی نظروں کو دیکھ کر
سیرت بھی جان لیتے ہیں چہروں کو دیکھ کر

مے کش کو مے کدے کو تو دیکھا کئے مگر
بہکے ہیں ہم تو آپ کے نخروں کو دیکھ کر

کس منہ سے آپ ہم کو نصیحت سنائیں گے
بگڑی ہے نسل آپ کے شہروں کو دیکھ کر

سرحد اجڑ رہی ہے خبر ہے کہ جنگ ہے
تڑپا ہوں میں بھی آج کی خبروں کو دیکھ کر

میں بھی یہیں پہ آؤں گا اک دن یقین ہے
یوں کیوں اداس آج ہوں قبروں کو دیکھ کر

دولت سے علم کے ہی ہوئے ہیں وہ سرخ رو
کچھ آپ بھی تو سیکھئے غیروں کو دیکھ کر

یہ شاعری نہیں ہے سوانح ظفؔر کی ہے
 احوال میرے جانئے شعروں کو دیکھ کر

پہلو میں کوئی دل ہے کہ پتھر ہی رکھا ہے

0 تبصرے
گو  اس  کے  ہر  اک وار  کا   انداز   جدا  ہے
ہر  وار   پہ   یکساں   ہی مگر  زخم  ہوا  ہے

اب دشمنوں  کی صف میں بھی آگے ہی کھڑا  ہے
وہ شخص جو میری ہی نوازش پہ پلا ہے

کس نام سے تجھ کو میں بھلا یاد کروں گا
تجھ  سے  تو  فقط  یار مجھے درد  ملا ہے

تنہائی  نے خاموش مزاجی بھی سکھا دی
یہ  شہرِ خموشاں  مجھے  اپنا  ہی  لگا ہے

کہتا تھا مجھے وہ کہ بہت بولتا ہوں میں
اب  خامشی بھی اس کے لئے ایک سزا ہے

ہم  راز  مرے  چند منافق  بھی  ہوئے ہیں
ان  ہی کے  فریبوں نے مجھے  زیر کیا  ہے

مجھ کو ہے یقیں اس کو ندامت ہی ملے گی
جو طیش میں آکر کے جدا مجھ سے ہوا ہے

زخموں  پہ مرے تیری یہ مسکان ہے کیسی
پہلو میں کوئی دل ہے کہ پتھر ہی رکھا ہے

سچ   بولنا  تو   آج   ظفؔر  جرم   ہے   گویا
 کل تک جو فدا تھا وہی اب مجھ سے خفا ہے



Thursday, September 8, 2016

ہماری آپ کی آزادیاں بھی ایک جیسی ہیں

0 تبصرے



چمن بھی ایک جیسے، تتلیاں بھی ایک جیسی ہیں
زمینیں صورتِ جنت نشاں بھی ایک جیسی ہیں

ہمارے درد و غم دشواریاں بھی ایک جیسی ہیں
مسیحاؤں میں اب عیاریاں بھی ایک جیسی ہیں

سنا ہے آپ بھی اب خوف کے عالم میں جیتے ہیں
ہماری آپ کی آزادیاں بھی ایک جیسی ہیں

ہمارے ہاں صنم پجتے ہیں تم قبروں کو پوجو ہو
لگے ہے کیرتن قوالیاں بھی ایک جیسی ہیں

جلائی جاتی ہیں دونوں ہی جانب مال کی خاطر
ہماری اور تمھاری بیٹیاں بھی ایک جیسی ہیں

ذرا سی بات پہ تم خون کی ندیاں بہاتے ہو
یہاں ترشول کی شربازیاں بھی ایک جیسی ہیں

زبانیں اور تہذیبیں یہ خور و نوش   ہیں یکساں
یہ موسم اور یہ پروائیاں بھی ایک جیسی ہیں

ہوئے ہو کیوں الگ تم جب سبھی ہم ایک جیسے ہیں
ہماری باہمی دل داریاں بھی ایک جیسی ہیں

غبن سے اور رشوت سے یہاں ہم بھی پریشاں ہیں
سیاسی لیڈروں کی چوریاں بھی ایک جیسی ہیں

ظفؔر ان کی بھی آنکھیں جاگتی رہتی ہیں راتوں کو
ہمارے خواب اور کم خوابیاں بھی ایک جیسی ہیں

(نوٹ: مطلع اول محترم شوکت پرویز صاحب کا عنایت کردہ ہے۔ جس کے لئے میں ان کا بے حد ممنون ہوں۔ )

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی