Tuesday, August 30, 2016

ترے بزم سے اب نکلنا پڑے گا

0 تبصرے
بزم انوار ادبی فورم فیس بک گروپ میں 29 اگست 2016 کی شام کو ایک  آن لائن فی البدیہ طرحی مشاعرہ منعقد ہوا۔
مشاعرے کی ابتداء میں جناب اشفاق اسانغنی صاحب کا ایک مصرع طرح کے لئے متعین ہوا۔ مصرع یوں ہے: 
           *اچھالوگے پتھر تو سر پر گرے گا*

چند متفرق اشعار میں نے بھی کہے۔ انہیں یک جا کیا تو ایک غزل ہوگئی۔ تفریح طبع کے لئے پیش خدمت ہے۔ 

                                 📝 *غــــــزل*
 پڑی جو ضرورت تو یہ مر مٹے گا
بہ جُز حکمِ رب سر کبھی نا جھکے گا

ہے ارض و سما کا وہ مالک اکیلا
کہ ذکر اس کا ہر سو ہمیشہ رہے گا

مرا دل جلا کر کے خوش ہونے والے
تری ہر خوشی کا محل بھی جلے گا

تو ذلت کی کھائی میں بھی جا چکا ہے
میں حیرت زدہ ہوں تو کتنا گرے گا

تری شوخ نظروں کی ان شوخیوں نے
مجھے کہہ دیا ہے کہ تو کیا کہے گا

چلاؤ نہ نینوں سے تم تیر مجھ پر
کہ کم ظرف دل ہے مچلتا رہے گا

یہ بے گانگی مجھ سے بتلا رہی ہے
ترے بزم سے اب نکلنا پڑے گا

 ہو نفرت کی آندھی میں دم چاہے جتنا
چراغِ محبت کبھی نا بجھے گا

مرے نام سے دل دھڑکتا ہے اب بھی
 بتا مجھ سے کیسے تو نفرت کرے گا

تجارت کا ساماں نہیں دل ظفؔر کا
جو پیسوں کی خاطر کہیں بھی بکے گا




۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Monday, August 29, 2016

بڑی مدت سے ہم پیاسے بہت ہیں!

0 تبصرے
27 اگست 2016 کو "موج سخن" فیس بک گروپ کے آن لائن فی البدیہ طرحی مشاعرے کی دوسری غزل۔


ہمارے زخم جو گہرے بہت ہیں
ستم گر کے ستم سہتے بہت ہیں

اگر چہ وہ ہمیں دشمن کہے ہیں
ہمیں وہ یاد بھی کرتے بہت ہیں

ہمیں بھی سرخ ہونٹوں سے پلادے
بڑی مدت سے ہم پیاسے بہت ہیں

محبت کے صنم خانے میں اب تک
بتانِ یار کچھ پجتے بہت ہیں

ہرے رہنے دے دل کے زخم سارے
انہیں ہم دیکھ کر جیتے بہت ہیں

ہماری کام یابی پہ کیوں اکثر 
ہمارے یار ہی جلتے بہت ہیں

نہیں آساں محبت کو نبھانا
محبت میں گلے شکوے بہت ہیں

پریشاں ہوں کسے اسلام سمجھوں
ہوئے اب دین میں فرقے بہت ہیں

ادب کی یہ ظفؔر "موجِ سخن" ہے
یہاں پر چاہنے والے بہت ہیں



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

سنا ہے آپ کے چہرے بہت ہیں

0 تبصرے
مورخہ 27 اگست کو "موجِ سخن" نامی فیس بک گروپ کے 149 ویں آن لائن عالمی طرحی فی البدیہ مشاعرے میں شرکت کا موقع ملا۔ 

میں نے بھی اس محفل میں چند برجستہ اشعار کہنے کی کوشش کی تھی۔ اسی کی یک جا شکل میں پہلی غزل حاضر ہے۔

 برجستہ شعر گوئی کا یہ پہلا تجربہ ہے۔ اہل فن سے خامیوں کی نشان دہی کی امید ہے۔


محبت آپ سے کرتے بہت ہیں
مگر اظہار سے ڈرتے بہت ہیں

پتہ ہے کیوں ہمی کٹتے بہت ہیں؟ 
ہمارے باہمی جھگڑے بہت ہیں

منافق سے ہمیں ہے سخت نفرت
سنا ہے آپ کے چہرے بہت ہیں

انہیں کیسے میں اپنا یار کہہ دوں
جو میرے درد پہ ہنستے بہت ہیں

غزل کی شکل میں ہم زخم لکھیں
مریضِ عشق ہیں روئے بہت ہیں

فقط اک تو نہیں ہے اس جہاں میں
کہ ہم پہ اور بھی مرتے بہت ہیں

بہانے لاکھ ہیں گر دل نہ چاہے
وگرنہ وصل کے رستے بہت ہیں

مرے مولی خطائیں بخش دینا
مرے اعمال بھی گندے بہت ہیں

ظفؔر ہر ملک کی حالت یہی ہے
ذرا سی بات پہ دنگے بہت ہیں



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Saturday, August 27, 2016

حسرتوں کی میں اک کتاب لکھوں

0 تبصرے
مورخہ: 26 اگست 2016

حسرتوں کی میں اک کتاب لکھوں
چا ہتو ں کا حسین با ب لکھو ں

ترے چہرے کو میں گلاب لکھوں
آ صنم تجھ کو ما ہتا ب لکھوں

زیرِ دند ا ن حرکتِ لب کو
لب لکھوں یا کہ پھر شباب لکھوں

پھر ترے لب سے اک سوال اٹھا
 اب قریب آ کہ میں جواب لکھوں

ہے کشش یا ہے نشہ آنکھوں میں
ان کو میں کاسۂ شراب لکھوں

اپنی حالت جو میں لکھوں ہم دم
غم و اندوہ اور عذاب لکھوں

و ہ محبت کو جر م کہتے ہیں
میں ا سے با عثِ ثواب لکھو ں

ایک دن ہم بھی مل ہی جائیں گے
اس کو حسرت لکھوں یا خواب لکھوں

یوں تو کہنے کو اب ظفؔر خوش ہے
اس خوشی کو بھی میں سراب لکھوں



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Wednesday, August 24, 2016

عزت

0 تبصرے
عزت اللہ کی دی ہوئی ایک نعمت ہے!  جو دیگر نعمتوں کی طرح ہی ہے۔ اگر اس کی ناقدری ہوئی تو یہ کسی بھی لمحے چھن سکتی ہے! 
اس لئےعقل مندوں کے مطابق اگر عزت ملی ہو تو اسے اپنی جاگیر سمجھ کر کسی کو کم تر سمجھنا سب سے بڑی حماقت ہے۔ اور اس سے بڑی حماقت یہ ہے کہ وہ سمجھے کہ ایک کم تر شخص اس کے رتبے کو نہیں پہونچ سکتا ہے! 

بعضوں میں یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ تعلیم کے اعلی مراتب عزت کے ضامن ہیں۔ ایسی عزت پانے سے تو ہم رہے! کیوں کہ اس کے لئے ہمیں افلاطون بننا پڑے گا۔ اب اتنی ٹیڑھی کھیر ہمارے بس کا روگ نہیں ہے! 
پھر سوچتا ہوں کہ کئی بار گاؤں کا ایک ماسٹر یا مولوی عزت کا جو مقام پالیتا ہے وہ ایک پروفیسر یا انجینئر بھی نہیں حاصل کرپاتا ہے۔ تو امید سے رہنے میں برائی کیا ہے؟! 

یوں تو ہر کوئی سمجھتا ہے کہ میں معزز ہوں! کوئی اپنی تحریر  کی مقبولیت کو اپنی عزت کی معراج سمجھتا ہے، کوئی اپنی صلاحیت کو! لیکن بڑے بزرگ کہہ گئے ہیں کہ عزت حسن اخلاق سے ہوتی ہے! عزت فرد کے برتاؤ کی بہ دولت ہوتی ہے۔  اب بزرگوں کے قول زریں سے اختلاف کرون اتنا بڑا جگر نہیں ہوا ہے۔ اس لئے سرجھکا کر اسی کو ماننا پڑتا ہے۔

 ہمارے محلے کے ڈاکٹر صاحب ایک دن ہم پر عزت جمانے لگے! اررے ہاں، مطلب عزت کا دھونس جمانے لگے!  اور ہم کو سکھانے لگے کہ عزت کیسے کی جاتی ہے۔ ہم سوچنے لگے کہ عزت مآب کو آخر بھیک میں عزت کیسے دیں! خیر وہ تو دفع ہوگئے لیکن یہ نکتہ ذہن میں جم گیا کہ بھیک یا رشوت والی عزت ہم ہضم نہیں کرپائیں گے۔ بس اسی روز سے وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء کا ورد کئے جاتے ہیں! اس مید سے کہ ایک نہ ایک دن تو دعا قبول ہوگی! پھر ہم بھی معزز کہلائیں گے!
ظفؔر شیر شاہ آبادی



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Tuesday, August 23, 2016

فرح جانِ ظفؔر

0 تبصرے
 ایک نظم فرح بٹیا کے نام!


9 اگست 2016


تو مری جان ہے اے لخت جگر
مری پہچان ہے تو نور نظر

مری منت مری چاہت ہے تو
توہی غم خوار ہے تو جانِ پدر

تری مسکان سے مسکاتا ہوں
تو جو غم گین ہو روئے ہے جگر

مری برکت کا سبب تو ہی ہے
اے مری جان تو ہے لعل و گہر

تجھ سے جو دور ہوں میں جانِ فرح
بڑی مشکل سے گزرتے ہیں پہر

جب خیال آیا لکھوں تجھ پہ غزل
بڑے شرمائے سے ہیں ماہ و مہر

مری ہر ایک دعا میں تو ہے
تو سر افراز ہو اے جانِ جگر

دونوں عالم میں ملے تجھ کو خوشی
ہو فرح نام کا تجھ پہ بھی اثر

مرے اللہ سلامت رکھنا
نہ ہو مشکل میں فرح جانِ ظفؔر



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Thursday, August 18, 2016

ظفؔر اندر سے گھائل ہے وہ بالکل کٹ چکا ہے اب

0 تبصرے


اشارے آنکھ کے شامل نہ  ہوں پھر  گفتگو کیا ہے
دعاؤں میں نہ ہو تیری طلب تو جستجو کیا ہے؟

سراپا ہی ترا ہے عنبریں یا میں نشے میں ہوں
گزرگاہوں پہ تیری اے صنم یہ مشک بو کیا ہے؟

اصولوں پر کسی کو فوقیت میں دے نہیں سکتا
ضرورت پڑنے پر ہے جان بھی حاضر لہو کیا ہے

خریدے گا مجھے،  اور تو؟ خیالِ خام ہے تیرا
بہت آئے گئے اس کام کو دل بر سو تو کیا ہے

ترا اقرار سچ ہے یا کہ یہ بھی وہم ہے میرا
اگر وہ تو نہیں ہے پھر وہ تجھ سا ہو بہو کیا ہے

مجھے اب تو پلادے ساقیا نظروں کے پیمانے
نشہ نظروں سے چڑھ جائے تو یہ جام و سبو کیا ہے

ہمیں جو بھی گزند پہنچا وہ اپنوں سے ہی پہنچا ہے
تو پھر سمجھائے کوئی مجھ کو مفہومِ عدو کیا ہے

ہوا قاتل ہی جب منصف امیدِ منصفی کیسی
مجھے چڑھنا ہی ہوگا دار پر اب آرزو کیا ہے

ظفؔر  اندر سے گھائل ہے وہ بالکل کٹ چکا ہے اب
اسے جو مندمل کردے وہ مرہم وہ  رفو کیا ہے؟



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Monday, August 15, 2016

कैसे मैं यह मान लूं मेरा देश अभी आज़ाद है

0 تبصرے
स्वतंत्रता दिवस के अवसर पर एक गीत लिखने का प्रयास किया किया हूं।
कृपया कुछ भूल चूक हो तो हमें सुझाव दें।

👇👇👇

आतंकी, अपराधी देशद्रोही अब आज़ाद है
निर्दोषों का निर्मम हत्यारा भी अब आज़ाद है
देश का बटवारा करने को योगी भी आज़ाद है

देश को तोड़ने वाला तो बस कायर की अौलाद है
कैसे मैं यह मान लूं मेरा देश अभी आज़ाद है।

गली गली में धर्म के नाम पे लड़ने वाले मिलते हैं।
चौक चौक पर आपस में लड़वाने वाले मिलते हैं।
फूलों की बगया में भी अब नफरत के गुल खिलते हैं।

कहीं पे आतंकी हमला है कहीं पे जातिवाद है!
कैसे मैं यह मान लूं मेरा देश अभी आज़ाद है!

चंद टकों की खातिर मां बहनों की इज्ज़त बिकती है।
मानव के करतूत देख कर मानवता भी सिसकती है।
बात बात पे देश में अब नफरत की आग भड़कती है।

निर्भयता किस चीज़ का नाम है हर सू आतंकवाद है।
कैसे मैं यह मान लूं मेरा देश अभी आज़ाद है।

गाय के नाम पे इनसानों की बली यहां पर चढ़ती है
धर्म के नाम पे देश में मानवता की होली जलती है।
राजनीति के नाम पे अब तो ग़ुंडा गरदी चलती है

शैतानों के काम करे है वह जो आदम ज़ाद है।
कैसे मैं यह मान लूं मेरा देश अभी आज़ाद है।


          ✒ ज़फ़र शेरशाह आबादी

Friday, August 12, 2016

کون کہتا ہے کہ آزاد ہوں میں؟

0 تبصرے
*یوم آزادی اور ہند کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں ایک تازہ ترین غزل*



اب     فقط    نام    کو    آباد      ہوں    میں
ہاں    یہی    سچ    ہے  کہ   برباد  ہوں   میں

قتل    و خوں   عام   ہے   دہشت   ہے    یہاں
کون    کہتا    ہے     کہ     آزاد     ہوں    میں

میں    ہی     معمارِ     وطن      ہوں     لیکن
وائے    ناکامی    کہ     برباد      ہوں     میں

ہے   مجھے   جان    سے   پیاری   یہ    زمیں
 اک    اسی    بات    پہ     آباد    ہوں    میں

 نہیں    کچھ     بیر     وطن     سے    لیکن
 ترے    انصاف    سے    ناشاد    ہوں    میں

تو     مرے     عزم     کو    کیا    توڑے   گا
کام     آساں  نہیں      فولاد     ہوں     میں

تم     بس     اک    حرفِ     تمنا     تو   کہو
نہر     لے     آؤں   گا     فرہاد     ہوں    میں

آنکھ    میں    اب    یہ    نمی   کیسی   ہے
کیا    تمہیں    آج    تلک    یاد    ہوں   میں

جال   میں    اپنے   ہی   پھنسنا   نہ  کہیں
تجھ  سے کچھ  کم  نہیں صیاد  ہوں  میں

سچ   کو  میں سچ  ہی لکھوں گا   اے  ظفؔر
سوچ     آزاد     ہے      آزاد      ہوں     میں




۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Sunday, August 7, 2016

آج محبوب رو بہ رو ہے کیا؟

0 تبصرے
غمزۂ چشم گفتگو ہے کیا؟
تری چاہت ہی جستجو ہے کیا؟

اور بھی ہم سفر ملیں گے مجھے
مری دنیا میں صرف تو ہے کیا؟ 

اس کی آمد سے میں معطر ہوں
یہ مرا یار مشک بو ہے کیا؟

مرا رب کاش یہ کہے مجھ سے
تو بتا تیری آرزو ہے کیا؟

میں تو تیری رضا کا طالب ہوں
تو نہ خوش ہو تو جستجو ہے کیا؟

مجھے بدنام کر رہا ہے جو
اس کی عزت اور آبرو ہے کیا؟

مری خوشیوں سے کیوں فسردہ ہے
یہ بتا تو مرا عدو ہے کیا؟

کیوں ظؔفر آج ہے بہت فرحاں
آج محبوب رو بہ رو ہے کیا؟



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی